نیکی کر گناہ لازم، لڑکی کو فون سے کال کرانے پر 3 سال قید

نیکی کر گناہ لازم، لڑکی کو فون سے کال کرانے پر 3 سال قید


لاہور(24نیوز)میاں بیوی کوگھر سے بھاگی لڑکی کواپنے فون سے کال کرانا مہنگا پڑگیا۔ لڑکی کے اغوا اور زیادتی کیس میں ملزم بن گئے۔تین سال کی خواری کے بعد خدا خدا کرکے رہائی ملی۔عدالت نے میاں بیوی کو بری کردیا۔

اب کبھی کسی انجان پرترس نہیں کھائیں گے۔ تلخ تجربے کےبعدمیاں بیوی نےسبق سیکھ لیا۔قصہ کچھ یوں ہے کہ عنصراوراس کی بیوی نے2016میں گھرسے بھاگی ہوئی 18سالہ پروین پرترس کھاکراپنے فون سے کال کروادی تھی۔بس پھرکیاتھاپولیس نےاس کال کی بنیاد پرمیاں بیوی کوگرفتارکرکےاغوااورزیادتی کاپرچہ کاٹ ڈالا۔

دوران ٹرائل میاں بیوی کی جانب سے عادل گیلانی ایڈووکیٹ اور ہاشم نیازی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔وکلانےدلائل میں کہاکہ اصل ملزم حیدرعلی ہے جس سے ملنے لڑکی گھر سے بھاگی تھی مگراس کو پولیس نے سازباز کرکے چھوڑدیا تھا۔دونوں میاں بیوی کو لڑکی داتا دربارپرملی اور ان سے کال کرنے کیلئے فون مانگا اور کال کی۔اس کال کی بنیاد پرپولیس نے میاں بیوی کوگرفتارکیا۔ فون کے بعد وہ کہاں گئی اور کس کس سے ملی اور کس نے اس سے زیادتی کی وہ نہیں جانتے۔میاں بیوی بے گناہ ہیں۔ 

صنفی تشدد کورٹ کے جج رحمت علی نے اٹھارہ سالہ لڑکی کے اغوا اور زیادتی کیس کا فیصلہ سناتےہوئےملزم عنصر اور اس کی بیوی پروین کوبری کردیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔