12مئی2007ءتاریخ میں خون آشام دن، ذمہ دار کون؟ چیف جسٹس نے کیس کی فائل طلب کرلی

12مئی2007ءتاریخ میں خون آشام دن، ذمہ دار کون؟ چیف جسٹس نے کیس کی فائل طلب کرلی


کراچی(24نیوز)  12مئی 2007، کراچی میں کھیلی گئی خون کی ہولی اور شہر میں دن دیہاڑے موت کا رقص جاری رہا ، اس کیس کی مزید تحقیقات کے لیےعدالت عظمیٰ نے سانحہ 12 مئی 2007 کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے فائل طلب کرلی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کراچی رجسٹری میں کیسز کی سماعت ہورہی ہے، کیسز کی سماعت شروع کرنے سے پہلے چیف جسٹس نے 12 مئی کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: ویک اینڈ پر جلسوں کی بہار، تین سیاسی جماعتیں کراچی میں جیالوں کا لہو گرمائیں گی

فاتحہ خوانی کے بعد چیف جسٹس نے بیرسٹر فیصل صدیقی سے پوچھا "کیا سانحہ 12 مئی کی تحقیقات نہیں ہوئیں؟"بیرسٹر فیصل صدیقی نےکہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ جس پر جسٹس ثاقب نثار نے 12 مئی کیس کی فائل طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیس نمبر دیں میں خود کیس دیکھوں گا۔

سانحہ 12 مئی 2007

12مئی دو ہزار سات، کراچی میں گولیوں کی تڑتڑاہٹ،ِ قتل و غارت گری ،خونی دن، کراچی کی تاریخ کا ایک خون آشام دن ثابت ہوا۔ 2007 کو وکلاء برادری تحریکیں چلا رہی تھی۔ اور عدلیہ بحالی کی تحریک لئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کراچی ایئرپورٹ ہی پہنچے تھے کہ شہر میں فساد برپا ہوگیا، کہ اس موقع پر شہر کو خون سے نہلا دیا گیا۔جہاں دیکھو آگ، زخمی،50 افراد جاں بحق تو 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے،کروڑوں روپے کی املاک گاڑیاں موٹر سائیکلیں جلا کر بھسم کردی گئیں.

ایک نجی ٹی وی چینل پر بھی دھاوا بولا گیا، چینل کی عمارت پر نا معلوم افراد نے گھنٹوں فائرنگ کی، نہ کسی نے روکا نہ ٹوکا۔

آخرکار واقعہ کا ذمہ دار کون؟

12مئی 2007، کراچی میں کھیلی گئی خون کی ہولی اور شہر میں دن دیہاڑے موت کا رقص جاری رہا ، جن میں سے زیادہ تر سیاسی کارکن تھے، گیارہ سال گزر گئے، کسی ایک شخص کے قاتل کو بھی سزا تو نہ مل سکی مگر الزامات کی سیاست گیارہ سال بعد بھی زندہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں: گجرات میں دولہا نے شادی کی پہلی رات خودکشی کرلی

پیپلز پارٹی ہو، جماعت اسلامی یا اے این پی، 12 مئی کے واقعات پر انگلی ایم کیو ایم کی جانب اٹھاتی رہی ہیں۔ لیکن ایم کیو ایم تو اس روز اپنے ہی کارکنوں کی موت پر نوحہ کناں دکھائی دیتی اور قاتلوں کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

اگر قتل سب ہی جماعتوں کے کارکنان اورعام لوگ ہوئے تو پھر قاتل کون تھا؟ حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے کسی نے زحمت ہی گوارہ نہ کی۔کراچی والے امید کرتے ہیں ،دوبارہ سے کوئی بارہ مئی رونما نہ ہو،اور اس شہر میں امن کا چراغ جلتا رہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی کی”بم گرل“ لڑکیوں کیلئے مثال بن گئی

اس دن آشام دن ہونیوالے مقدمات  میں 40 سے زائد ملزمان مفرور ہیں، جن کو کئی بار نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود گرفتار نہ کیا جاسکا، جس کی وجہ سے مقدمات میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ سانحہ 12 مئی کے درجنوں مقدمات درج کیے گئے مگر صرف 8 مقدمات میں چالان پیش کیے گئے۔7 مقدمات میں میئر کراچی بھی نامزد ہیں۔ تفتیشی افسر نے مذکورہ 7 مقدمات میں گرفتار 6 ملزمان ارسلان، وقاص، غلام مرتضیٰ، سید طلحٰہ، ذیشان بشیر اور محمد عدیل کو بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کر دیا۔

جلاؤ گھیراؤ، ہنگامہ آرائی، قتل، اقدام قتل سمیت انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درجنوں مقدمات درج ہوئے، بیشتر مقدمات میں تفتیشی افسران نے عدالتوں کو بتایا کہ مقدمات نامعلوم ملزمان کے خلاف ہیں اور ملزمان کا سراغ تاحال نہیں لگایا جاسکا ہے، اگر مستقبل میں کوئی ملزم گرفتار ہوا تو عدالت میں پیش کر دیا جائے گا، 8 مقدمات پر بھی عدالتی کارروائی 2015 ء اور 2016 ء سے شروع ہوئی، ملزم اسلم عرف کالا کو جولائی 2016 ء میں گرفتار کیا گیا، 4 مقدمات میں رکن صوبائی اسمبلی محمد عدنان اور محمد کامران فاروق کو بھی نامزد کیا گیا، جو تاحال مفرورہیں، جنیدعرف گاڈا، عمران عرف انگریز، سلمان رضو ی اور نا صر کو بھی مذکورہ 7 مقدمات میں نامزد کیا گیا۔

بعدازاں جولائی 2016 ء میں ملزمان نورالحسن، سید ارسلان علی، وقاص قائمخانی، فیصل وہاب، غلام مرتضیٰ، سید طلحہٰ، ذیشان بشیر، اظہر قریشی اور محمد عدیل کو اسلم کالا کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا۔ مفرور ملزمان میں متحدہ ایم پی اے کامران فاروقی، محمد عدنان، سید اعجاز شاہ، عمیر حسین، جنید بلڈاگ، فرحان شبیر، محمد فہد، محمد عابد، عرفان، فیصل ہاشمی، محمد انور قائم خانی، محمد ساجد، عامر مشتاق، عبد الاحد، عبد الحفیظ، عبدالسلام، عبدالوحید، زاہد، عابد علی، علی احمد، آصف احمد قریشی، عزیز، دلدار میاں، فرید الدین، فرخ ظفر، حق نواز، جاوید علی قریشی، ادریس، فرحان، خالد، بابو شہزاد، راشد خان، کاشف علی، الطاف، محمود خان، ارشد بیگ، ذوالفقار علی ، محمد عباس، ظفر، ناظم اختر ،ذاکر ،عبدالسلام ،سہیل رانا ،محمد معراج ،محمد ناصر اور فرحت شامل ہیں۔

مفرور ملزمان کوتاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ سانحہ 12 مئی 2007 ء کی ازسر نو تحقیقات کے لئے لاجر بینچ تشکیل دینے کی درخواست بھی سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اقبال کاظمی کی درخواست ابھی تک التواء کا شکار ہے۔

 

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔