کراچی کو عظیم شہر بنانے کیلئے عمران خان کے10 نکات


  کراچی (24 نیوز) شہر قائد کو عظیم شہر بنانے کیلئے عمران خان نے 10 نکات پیش کر دیے ہیں. شہر قائد میں میں اپنی دانش اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ نکات پیش کیے.

وہ نکات کچھ یوں ہیں :
1۔پانی کا مسئلہ 
2۔تعلیم کے نظام میں بہتری
3۔صحت کا مسئلہ
4۔پولیس
5۔بزنس
6۔بجلی کی بحالی
7۔نوجوان
8۔ماحولیات
9۔ٹرانسپورٹ کا مسئلہ
10۔روزگار
کراچی کے الہ دین پارک میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں، کراچی کے لوگ کے لیے آج 10 نکات پیش کروں گا. نکات سے کراچی ایک عظیم شہر بنے گا۔کپتان نے بتایا کہ سارے پاکستان کی سیاسی تاریخیں کراچی سے شروع ہوتی ہیں، ہر مسئلہ پر کراچی کے لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔

ہر طبقہ کا آدمی یہاں بستا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی دارلخلافہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ کراچی وہ شہر تھا جدھر پاکستان کے سارے مسائل کے لیے لوگ کھڑے ہوتے تھے، کراچی کو بالکل ٹھیک منی پاکستان کہتے تھے، کراچی پاکستان کا فنانشل کیپیٹل ہے، کراچی اوپر جائے تو پاکستان اوپر جاتا ہے، جب کراچی کو چھینک آئے تو پاکستان کو ٹھنڈ لگ جاتی ہے، میں اپنے دس نکات سے قبل چاہتا ہوں کہ میری زندگی سے ایک چیز سیکھیے، میری زندگی سے سیکھیے کہ بڑی سوچ رکھو اور بڑے خواب دیکھو، مجھ سے زیادہ ٹیلنٹڈ کھلاڑی، مجھ سے زیادہ عقلمند اور ذہین لوگ تھے، اللہ نے مجھے کامیاب اس لیے کیا کیونکہ میں بڑے خواب دیکھتا تھا۔

جو بھی پاکستانی دنیا میں جہاں بھی جائے میں چاہتا ہوں لوگ اس کی عزت کریں، یہ پہلے ہوتا رہا ہے، اب کیوں نہیں ہوسکتا؟ پاکستان کے وزیر اعظم کو امریکا کا صدر لینے آیا، میں جب یونیورسٹی میں تھا پورا یورپ پھرا، ویزے کی ضرورت نہیں تھی آج عام لوگوں کو تو چھوڑو ملک کے پرائم منسٹر کے کپڑے اتار دئیے انہوں نے جب پرائم منسٹر کی عزت نہیں لوگوں کی کیسے ہوگی؟ اللہ کبھی کبھی قوم کو تقدیر بدلنے کا موقع دیتا ہے، یہ وہ موقع ہے جب ہم یہ کرسکتے ہیں۔

 ہم وہ قوم بن سکتے ہیں جس کے لیے پاکستان بنا تھا، اسلامی فلاحی ریاست میں انسانیت اوراسلامی فلاحی ریاست کا خواب آج بھی پورا ہوسکتا ہے، خواب دیکھنے والا پاکستانی ہونا چاہئے، یہ وہ ملک بن سکتا ہے جو ہم چاہتے ہیں۔ یہ وہ پاکستان نہیں ہے جس کا علامہ اقبال نے خواب دیکھا، میں چاہتا ہوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا چھوڑ دیں، ہمیں تعصب کی بناء پر لڑایا گیا۔ نفرتوں کی سیاست کی گئی

میں نے اپنی آنکھوں سے کراچی کو دیکھا ہے، دبئی کے شیخ یہاں چھٹیاں منانے آتے تھے، کراچی ایک بین الاقوامی شہر تھا، رات کے وقت کسی کو جان و مال کی فکر نہیں ہوتی تھی، ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کی تنزلی دیکھی، لوگوں نے احساس محرومی اپنی ذات کے لیے استعمال کیا۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito