”یاد ماضی عذاب ہے یارب ،چھین لے مجھ سے حافظہ میرا“

”یاد ماضی عذاب ہے یارب ،چھین لے مجھ سے حافظہ میرا“


اسلام آباد( 24نیوز )اب عمران خان نے ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کادعویٰ کیا ہے،یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا، دعووں اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے، اس کا اندازہ اپوزیشن میں رہ کر شور مچانے اور حکومت میں آکر دعوو¿ں کے برعکس اقدامات کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔

ماضی کی طرح موجودہ حکومت نے بھی عوامی امیدوں پر پانی پھیر ہی دیا،عمران خان کا دعویٰ نمبر ایک تھا کہ حکومت قرض نہیں مانگے گی،دعوے کے برعکس حکومت قرضے کی عرضی لے کر آئی ایم ایف کے پاس پہنچ گئی،جس سے وزیراعظم عمران خان کا پہلا وعدہ تو وفا نہ ہوا۔

ان کا دوسرا دعویٰ تھا کہ روپے کی قدر میں گراوٹ سے پاکستانیوں پر قرض بڑھتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے دعوے کے برعکس ڈالر تو کچھ ایسے بڑھا کے کئی ریکارڈ توڑتا گیا، کچھ روزقبل ایک سو چوبیس پر ٹھہرا ہوا ڈالر یکدم ایک سو چونتیس روپے پر چلا گیا۔ لہذا دوسرا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔

عمران خان کا تیسرا دعویٰ تھا کہ وہ مرجائیں گے لیکن بھیک نہیں مانگیں گے،عمران خان کا تیسرا دعویٰ بھی ملک کی معاشی صورتحال پر تھا جسے وہ حکومت میں آکر قائم نہ رکھ سکے اور کشکول توڑنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

عمران خان کا دعویٰ نمبر چارتھا کہ وہ خودکشی کرلیں گے لیکن وزیراعظم بن کر بھیک نہیں مانگیں گے،حکومت میں آکرعمران خان نے اپنے ہی دعوو¿ں کو ہوا میں اڑادیا، تاہم اب ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کچھ عرصے کیلئے قرضہ لیں گے اور موجودہ معاشی بحران سے ملک کو نکال کر دکھائیں گے۔