چیف جسٹس نے خواجہ سراﺅں کے سر پر ہاتھ رکھ دیا

01:37 PM, 12 Sep, 2018

Read more!

اسلام آباد( 24نیوز )چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معاشرے کے دھتکارے دو افراد کے سر پر ہاتھ رکھ دیا، دوخواجہ سراﺅں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا اعلان کردیا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےخواجہ سراﺅں کے بنیادی حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ سراﺅں کے بنیادی حقوق سے متعلق این جی اوز اور کے پی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہیں،خواجہ سراﺅں کو حقوق دلانا اولین ترجیح ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے دو خواجہ سراﺅں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میںخواجہ سراﺅں کی تضحیک کی جاتی ہے، عدالت انہیں قومی دھارے میں لانا، ان کی حفاظت اور مسائل کا حل چاہتی ہے۔
سپریم کورٹ نے خواجہ سراﺅں کے حقوق سے متعلق سفارشات دو ہفتوں میں طلب کرلیں،عدالت نےخواجہ سراﺅں کے خلاف بلیو وین ویب سائٹ کے مالک کونوٹس جاری کردیا اور کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں ڈوڈوچہ ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی سیاسی جماعت بنائے، سیاست کرنی ہے تو کہیں اور جاکر کریں، ڈیم کے مخالفین کو آخری وارننگ دے رہے ہیں، یہ سیاسی نہیں بنیادی حقوق کے مقدمات ہیں, جو عدالت کو بدنام کریں گے انھیں ایسے نہیں جانے دیں گے، جو پاکستان میں ڈیم نہیں دیکھنا چاہتے ان کا ایجنڈا پورا نہ کریں۔


سیکرٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ ڈیم محکمہ زراعت کو تعمیر کرنا ہے، بحریہ ٹاوٴن ہماری مالی معاونت کرے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بحریہ ٹاوٴن حکومت پنجاب کا فنانسر نہیں ہے، اصل ایشو ڈیم پر کمیشن کا ہے ، نجی کمپنی نے ڈیم بنایا تو کمیشن نہیں ملے گا، ہر کام پر کمیشن نہیں ہونا چاہیے، ذرا سوچیے کہ یہ ڈیم صوبے کے عوام کے لیے کتنا ضروری ہے۔

یاد رہے پیپلز پارٹی کے رہنماءخورشید شاہ نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سیاسی جماعت بنالیں۔

مزیدخبریں