انکوائری رپورٹ میں اندرونی کہانی سامنے آگئی

03:49 PM, 12 Sep, 2018

Read more!

اسلام آباد( 24نیوز )سابق آئی جی پنجاب کلیم امام نے ڈی پی اوپاکپتن کی تبدیلی پرانکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی-
رپورٹ میں ثابت ہوا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے 24اگست کی رات ڈی پی اورآری پی او کو اپنے دفترمیں طلب کیا،وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ان کے قریبی دوست احسن اقبال جمیل خاورمانیکا خاندان کیساتھ پیش آنے والے واقعات کی پولیس افسران سے شکایات کرتے رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ اس دوران خاموش رہے لیکن ڈی پی او پاکپتن کو ایک اجنبی کے ساتھ اس طرح آمنا سامنا کرانا پسند نہ آیا .ڈی پی او نے محسوس کیا کہ وزیراعلیٰ اورآپی او کی موجودگی میں کوئی اجنبی ان کی باز پرس کررہا ہے ،ڈی پی او نے محسوس کیا کہ انہیں دبایا جا رہا ہے جوانہیں ناگوارگزرا۔
رپورٹ میں بتایا خاورمانیکا کے بچوں کوشک تھا کہ ان کے چچاو¿ں کے مخالف سیاسی پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں جس کی بنا پران کےساتھ ایسا سلوک برتا گیااورذمہ داران کیخلاف کارروائی نہ ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام بیانات کا بغورجائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ احسن اقبال جمیل کا کوئی اقدام ایسا نہیں تھا جو قابل دست اندازی پولیس ہو،احسن اقبال جمیل میٹنگ میں بطور شکایت کنندہ موجود تھا اوروزیراعلیٰ نے نہ تو کوئی تحریری احکامات جاری کیے نہ پولیس کو کوئی ہدایات جاری کیں،وزیراعلیٰ نے آر پی او کو معاملے کو اپنے طور پر حل کرنے کے لیے کہا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ کسی بھی پولیس افسرکو براہ راست اپنے دفتر طلب نہ کرِیں ،اگر کسی افسر سے متعلق کوئی معاملہ ہو تو اسے آئی جی پنجاب کے زریعے طلب کیا جائے،وزیر اعلیٰ آفس میں آنے والی شکایات ازالے کے لیے آئی جی کو بھجوائی جائیں،کسی افسر کو وزیر اعلی، وزرا اور دیگر سرکاری دفاتر میں جانے کی اجازت نہ ہو جب تک کہ انھیں آئی جی کی جانب سے ہدایات جاری نہ ہوں۔


دوسری جانب آر پی او ساہیوال سے جرح میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ میٹنگ دوستانہ اور خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی جس کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب بذات خود پولیس افسران کی تواضع کھانے پینے کی اشیاءسے کرتے رہے،رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں ملاقات کا مقصد ڈی پی او اور آر پی او کو واقعے کی حساسیت سے آگاہ کرنا تھا جبکہ ملاقات کے دوران احسن اقبال جمیل کا رویہ شکایت کا ازالہ نہ ہونے کے باعث گہرے رنج کا اظہار تھا۔

مزیدخبریں