سیدنافاروق اعظم ؓ اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیت

06:33 PM, 12 Sep, 2018

وقار نیازی

24نیوز: سیدنافاروق اعظم ؓ وہ ہستی ہیں جن کے دورخلافت میں اسلام ایک جیتے جاگتے نظام حیات کی شکل میں سامنے آیا. 

حضرت عمربن خطاب ابوبکرصدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشدبنے،آپ کی پیدائش 586ء سے590ء کے درمیان ہوئی، تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں،آپ کا لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ان کا شمارعلما وزاہدین صحابہ میں ہوتا تھا،جب حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کواسلام کی دعوت دی توعمربن خطاب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے عمر بن خطاب نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے۔آپ نے 634ء میں خلافت سنبھالی،عمر بن خطاب ایک باعظمت، انصاف پسند اورعادل حکمران مشہورہیں، آپ کی عدالت میں مسلم وغیرمسلم دونوں کو یکساں انصاف ملا کرتا تھا،آپ کا عدل اورانصاف آپ کے لقب فاروق کی وجوہات میں سے ایک بنا،آپ کے دورخلافت میں عراق،مصر،لیبیا،شام،ایران اوردیگرعلاقے فتح ہوکرمملکت اسلامی میں شامل ہوئے اور اس کا رقبہ بائیس لاکھ اکاون ہزاراورتیس مربع میل پرپھیل گیا۔

عمربن خطاب ہی کے دورخلافت میں پہلی مرتبہ بیت المقدس فتح ہوا،اس طرح ساسانی سلطنت کا مکمل رقبہ اور بازنطینی سلطنت کا تقریباً تہائی حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگین آگیا۔،بدر،احد،خندق،خیبراورغزوہ تبوک سمیت صلح حدیبیہ اورحجتہ الوداع میں شریک ہوئے،آپ 7نومبر644ء کوایک غلام کے حملے میں شہید ہوئے،غلام ابولولوفیروزنے مسجد نبوی میں فجر کی نمازکے دوران آپ پرخنجرکے تین وار کیے،آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔

 

مزیدخبریں