نئی تحقیق نے صنف ِنازک کو دنگ کرڈالا

09:21 PM, 12 Sep, 2018

Read more!

لاہور (24 نیوز) تحقیق کے مطابق سیلفیوں پہ سیلفیاں لے کرسوشل میڈیا کا پیٹ بھرنے والی خواتین میں ذہنی امراض پھوٹنے لگے۔

سیلفی کابخارویسے توہرکسی کوہے مگرخواتین اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی حساس ہیں، پہلے میک اپ، پھرعمدہ سا پوز اور پھر کسی دلکش نظارے میں خود کی ہی تصویربنا لینا صرف اتناہی نہیں،اس سیلفی کوساری دنیاکودکھانے کیلئے سوشل میڈیاپرشیئرکرنابھی جیسے صنف نازک پرلازم ٹھہرا ہو۔

تحقیق کے مطابق سیلفی کے بارےمیں افسردہ رہنے والی خواتین کی پریشانی کی ایک وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ جب وہ اپنی سیلفی دیکھتی ہیں، توبعض دفعہ وہ خود کو دوسری خواتین سے کم پُرکشش سمجھنے لگتی ہیں اوریہی غم پھر انہیں کھانے لگتاہے۔

کم خوبصورت نظرآنے والی خواتین اپنے موبائل میں مختلف ایپلیکیشنزبھی ڈاؤن لوڈ کر رکھتی ہیں ،مگربعض دفعہ ایسے جتن بھی ان کے حُسن کوچارچاند لگانے سے معذرت کرلیتے ہیں۔خواتین اپنی پہلی سیلفی سے کبھی بھی خوش نظرنہیں آئیں،وہ یہ کوشش اس وقت تک جاری رکھتی ہیں جب تک وہ مطمئن نہیں ہوجاتیں،اُن کاخیال ہے کہ سیلفی ایسی ہونی چاہیے کہ سب دیکھتے ہی رہ جائیں۔

اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق کے دوران نیو یارک یونیورسٹی کی ماہرنفسیات پروفیسر جینیفرملزنے خواتین کے رویے کاجائزہ لیاجوسوشل میڈیاپرتصویریں جاری کرتی ہیں ان خواتین میں نفسیاتی مسائل،اعتمادکی کمی اورجسمانی لحاظ سے کم پُرکشش ہونے جیسی خامیاں پیداہوتے دیکھی گئی ہیں۔

 

مزیدخبریں