قومی اسمبلی کا اجلاس، نو منتخب اراکین نے حلف اٹھالیا


اسلام آباد(24نیوز) انتظار کی گھڑیاں ختم ،  پندرہویں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا،  نو منتخب ارکان اسمبلی نے حلف اٹھالیا اور اس وقت تمام ارکان اسمبلی قومی اسمبلی کے رجسٹر پر دستخط کر رہے ہیں جبکہ متوقع وزیر اعظم عمران خان ایوان میں  وزیر اعظم کی ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس  اسپیکر ایازصادق کی زیر صدارت ہورہا ہے۔ اسپیکر ایازصادق  نو منتخب ارکان سے حلف لیں گے۔ اجلاس میں شرکت کیلئے نومنتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں۔ عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، فواد چودھری اسد عمر ، پرویز خٹک، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی ، شہباز شریف، خواجہ آصف ، احسن اقبال سمیت دیگر  نومنتخب ارکان اسمبلی پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلی بار قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کی مخصوص نشستیں الاٹ، تحریک انصاف سب سے آگے 

عمران خام ایوان میں پہنچ گئے، عمران خان کے ایوان میں پہنچنے پر اراکین نے ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔ عمران خان وزیر اعظم کیساتھ والی نشست پر براجمان ہیں۔ عمران خان اپنی نشست سے اٹھ کر آصف زرداری کے پاس گئے، عمران خان نے آصف زرداری، بلاول بھٹو اور خورشید شاہ سے مصافحہ کیا۔

قومی اسمبلی میں اسپیکر اسمبلی ایاز صادق پہنچ گئے۔ قومی ترانہ، تلاوت قرآن پاک اور نعت کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اجلاس کے آغاز میں نومنتخب اراکین کو مبارکباد دی اور حلف کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے لیے 15 اگست کی تاریخ کا اعلان کیا اور طریقہ کار بھی بتایا۔

سب سے پہلے حلف نامہ پر سابق صدر آصف علی زرداری نے دستخط کیے، آصف زرداری کا سب سے پہلے نام لینے پر ایوان جئے بھٹو کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس وقت سب اراکین اسمبلی باری باری حلف نامہ پر دستخط کر رہے ہیں۔ 

خورشید شاہ گفتگو: 

پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہےنئے پاکستان میں روایات بدلنی چاہیے، میں اور نوید قمر سب سے سینئر سیاستدان ہیں، ہم دونوں میں سے ایک کو اسپیکر ہونا چاہیے، ابھی تک تحریک انصاف نے تجویز کا جواب نہیں دیا۔ان کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف نے مجھ سے دستبرداری کی درخواست نہیں کی۔

شیخ رشید گفتگو: 

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کہتےہیں اپوزیشن کاکام ہی ٹف ٹائم دینا ہوتا ہے، مگر پیپلزپارٹی اور ن لیگ والے زیادہ دیر ساتھ نہیں چل سکتے، شیخ رشید کاکہنا ہے کہ آج یکم ذوالحج ہے اللہ تعالی ملک کے حالات بہتر کرے۔

زرتاج گل گفتگو: 

تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کاکہنا ہے کہ ہم جیسے ایم این ایز کا پارلیمنٹ ہاؤس میں آنا نیا پاکستان ہے، اس سے پہلے کبھی آپ نے ایسے نوجوان ایم این ایز نہیں دیکھے ہوں گے، پہلے صرف وزیر آتے تھے اب تعلیم یافتہ اور میڈل کلاس کے لوگ پارلیمنٹ ہاؤس میں آئے ہیں۔

پڑھنا مت بھولیں: الیکشن کمیشن نے صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا
 14 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہو گا،چودہ اگست کو دن 12 بجے تک صرف سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے کاغذات نامزدگی جمع ہونگے، نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ارارکین پارلےمنٹ خفیہ رائے شماری کے تحت 15اگست کو کریں گے۔ سولہ اگست کو دن دو بجے تک وزیر اعظم کےانتخاب کے لئے کاغذات جمع ہو سکیں گے۔
وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ،وزیراعظم کا انتخاب آئین کے ارٹیکل 91 کی شق 4 کے تحت ہوگا ۔ دو امیدواروں کی صورت میں 172 وٹ لینے والا وزیراعظم ہو گا،وزیراعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کے مجموعی اراکین کے اکثریتی ووٹ سے ہوگا، زیادہ امیدواروں کی صورت میں اکثریتی ووٹ لینے والا وزیر اعظم قرار پائے گا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف  158 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ مسلم لیگ ن 82، پاکستان پیپلز پارٹی 53 نشستوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئی پارلیمنٹ موروثی سیاست کی آماجگاہ بن گئی

نومنتخب ارکان کے کوائف اکٹھا کرنے اور کارڈ کے اجرا کیلئے قومی اسمبلی کے کمیٹی روم نمبر 2 میں خصوصی سہولت مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کے موقع پر ہر رکن کو مہمانوں کے لئے 2 گیلری کارڈ مہیا کیے جائیں گے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے ارکان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہر اجلاس سے ایک روز پہلے اپنے مہمانوں کے نام، شناختی کارڈ اور گاڑی نمبرفراہم کریں بصورت دیگر ان کو ریڈزون میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔