سپریم کورٹ کی مری میں غیرقانونی تعمیرات پر ازخودنوٹس کی سماعت


اسلام آباد(24نیوز) مری میں غیرقانونی تعمیرات پر ازخودنوٹس کی سماعت، سپریم کورٹ نے تمام افسران کی فہرست طلب کرلی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے 140 عمارتوں کو غیرقانونی قرار دیا.

مری میں غیر قانونی تعمیرات پر ازخود نوٹس کی سماعت  ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رزاق مرزا نے عدالت کوبتایا کہ ایک سو چالیس عمارتوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اٹھاسی مالکان نوٹس پر ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہوئے۔ بازار میں تیس فٹ تک بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قانون کس نے اور کب بنایا تھا ۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قانون 2005 میں بنایا گیا۔مری میں سات منزلہ دس عمارتیں ہیں ۔ 56 عمارتیں رہائشی84 کمرشل ہیں ۔ 107 عمارتوں کو قانون کے دھارے میں نہیں لایا جا سکتا ۔ تمام ایکسو چالیس عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر چکے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب غیر قانونی عمارتیں بن رہی تھیں تب افسران کہاں تھے ۔چیف جسٹس نے متعلقہ موجودہ اور سابق افسران کے فہرست مانگ لی۔ ڈی سی راولپنڈی نے عدالت کوبتایا کہ 2005 میں بھی سوموٹو لیا اور ستائیس عمارتین گرائی گئیں۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ جب یہ عمارتیں غیر قانونی طریقے سے قائم کی گئی مجاز حکام نے ایکشن کیوں نہیں لیا ؟غیر قانونی عمارتوں کے مالکان کو بھی سنا جائےگا۔ مری انتظامیہ کی رپورٹ پر اگر کسی کو اعتراض ہے توجواب داخل کرے۔

عدالت نے لوکل انتظامیہ کی جانب سے اشتہارجاری کرنے اور پبلک نوٹس کے بعد متعلقہ لوگوں کو ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش کی ہدایت کی۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔