نقیب قتل کیس: راؤ انوارکو گرفتار نہ کیا جائے، چیف جسٹس


کراچی (24 نیوز) پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں نقیب قتل کیس از خود نوٹس کی سماعت کی گئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں کراچی کے ہائی پروفائل قتل نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔  مقتول نقیب اللہ کے والد کی جانب سے عدالت میں خط پیش کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے جانتے ہیں کہ سابق ایس ایس پی ملیر کہاں ہیں پھر آئی جی سندھ اب تک راؤ انوار کو کیوں نہیں پکڑ سکے۔ راؤ انوار کی عدم گرفتاری کا جواب چاہیے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے عوام سے مدد مانگی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ رُخ جتوئی کی ہسپتال منتقلی کا چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا
 
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی سندھ  سابق ایس ایس پی ملیر کو گرفتار نہیں کرسکے اور انہوں نے عدالت سے مزید وقت مانگا ہے۔ لیکن دوسری جانب عدالت کے ہیومین رائٹ سیل کو سابق ایس ایس پی راؤ انوار کا خط موصول ہوا ہے۔ اگر یہ خط واقعی راؤ انوار کا ہے تو عدالت انہیں موقع دیتی ہے کہ وہ خود آئندہ جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوکر اپنا مؤقف دیں۔ اس وقت تک سندھ  اور اسلام آباد پولیس ان کی حفاظت کرے اور انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔ لیکن یہ تمام احکامات راؤ انوار کی عدالت میں آمد سے مشروط ہوں گے۔

ضرور پڑھئے:بدنام زمانہ سابق انسپکٹرعابد باکسر دبئی سےگرفتار

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ نقیب اللہ ہمارا بھی بچہ تھا لیکن شہادت کے بغیر کسی کو مجرم نہیں کہا جاسکتا۔ راؤ انوار کو بھی انصاف ملنا چاہیے۔ خط کی تصدیق راؤ انوار ہی کرسکتے ہیں۔ تاہم  سابق ایس ایس پی کے خط پر جے آئی ٹی تشکیل دیں گے۔ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔

پڑھنا نہ بھولئے: حساس ادارے کے اعلیٰ آفیسر کے فلیٹ میں چوری

علاوہ ازیں سابق ایس ایس پی راؤ انوار کی گرفتاری کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پنجاب نے تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز سے تحریری حلف نامے مانگ لیے۔ راؤ انوار کی موجودگی یا ضلع میں سے گزرنے کے حوالے سے بتایا جائے۔ مراسلہ حلف نامے میں بتایا جائے راؤ انوار ان کے ضلع میں موجود نہیں۔

ذرائع کے مطابق مراسلہ حلف ناموں کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروایا جائے گا۔

24 نیوز کے مطابق نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی اداروں نے رپورٹ تیار کر لی ہے۔ ملزم کی لوکیشن آئی بی نے ٹریس کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے راؤ انوار کو ہمیں خود ہی پکڑنا ہو گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے راؤ انوار کا خط کمرہ عدالت میں لہرا کر سب کو حیران کر دیا۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ خط میں راؤ انوار خود کو بے گناہ بتارہے ہیں اور آزاد جے آئی ٹی بنانے کا بھی کہا ہے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ اس پیشکش پر آپ کیا کہیں گے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ راؤ انوار کو صفائی کا موقع دیا جانا چاہیے۔

اہم خبر: نقیب قتل کیس میں اہم موڑ، اقبال جرم کرنیوالے 4ملزمان مکر گئے  

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار کو انصاف ملنا چاہیے۔ شہادت کے بغیر کسی کو مجرم نہیں کہہ سکتے۔ عدالت نے سندھ اور اسلام آباد پولیس کو راؤ انوار کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ جے آئی ٹی بھی بنائیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ راؤ انوار پہلے عدالت کے سامنے پیش ہوں۔