سانحہ ساہیوال،پولیس کی گاڑی کو لگنے والی گولیاں پولیس کی ہی نکلیں

 سانحہ ساہیوال،پولیس کی گاڑی کو لگنے والی گولیاں پولیس کی ہی نکلیں


لاہور(24نیوز) سانحہ ساہیوال پر بننے والی جے آئی ٹی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،پولیس کی گاڑی کو لگنے والی گولیاں پولیس کی ہی نکلیں۔

تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی تحقیقات میں اہم پیش رفت موقع سے ملنے والے خول پولیس اہلکاروں کی بندوقوں سے میچ کر گئے،مقتول ذیشان کے پاؤں سے ملنے والا پستول بھی کئی خولوں سے میچ کر گیا ،واقعے کے سب سے اہم عینی شاہد ڈاکٹر ندیم بھی شامل تفتیش  ہیں، ڈاکٹر ندیم پولیس اور ذیشان کی گاڑیوں کی مسافت کے واحد عینی شاہد ہیں،  ڈاکٹر ندیم کے بیان سے اب تک کئی چھپی باتیں منظر عام پر آگئی ہیں ، وہ اس دن لاہور سے بہاولپور جا رہے تھے۔

ذرائع کاکہناتھاکہ سی ٹی ڈی نے فرانزک لیبارٹری کو دھوکہ دینے کی کوشش کی، پنجاب فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا اسلحہ واقعے میں استعمال نہیں ہوا،اہلکاروں کے زیر استعمال اسلحہ اور پولیس موبائل بدل کر دی گئیں،دی گئی پولیس موبائل کو کھڑی کر کے گولیوں کا نشانہ بنا کر فائرنگ کا تبادلہ بتایا گیا،اہلکاروں کے زیر استعمال اسلحہ بھی بدل کر دیا گیا، ذیشان کی گاڑی، اہلکاروں کا اسلحہ اور پولیس موبائل فرانزک لیبارٹری بھیجی گئی تھی۔

 ذرائع کا مزیدکہناتھاکہ ذیشان کی گاڑی کو ایک سے ڈیڑھ فٹ کے فاصلے سے نشانہ بنایا گیا،جائے وقوعہ سے 100 کے قریب گولیوں کے خول ملے،فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ کا نتیجہ نہیں آ سکا، چہروں پر نقاب اور پیچھے سے بننے والی فوٹیج ٹیسٹ نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 19 جنوری کی سہہ پہر پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔