امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے کی توثیق کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے کی توثیق کر دی


واشنگٹن(24نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدے کی توثیق کر دی، امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکی صدر نے 120 روز کیلئے توثیق کی ہے،، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مدت کے دوران سمجھوتے میں بہتری لائی جائے یا پھر امریکا کی جانب سے معاہدے سے الگ ہونے کیلئے تیار ہوجائیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ نے ایران کیساتھ جوہری معاہدہ ختم نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔  پابندیوں کے بل پردستخط 120دن کیلئے موخر کئے ہیں تاکہ ایران سمجھوتے میں بہتری لائے۔
وائٹ ہاوس حکام نے کہا کہ ایران کے خلاف از سر نو تیسری بار سخت پابندیاں عائد نہ کرنے کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی تحقیق ختم کرانا ہے۔ وائٹ ہاوس یورپی یونین کے دستخطوں کیساتھ ایک معاہدہ چاہتا ہے جس کے تحت ایران پر یورینیم کی افزودگی کی پابندی عائدکی جائے۔ ٹرمپ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معاہدے کا حصہ بناناچاہتے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے مطابق ٹرمپ نے کہاوہ آخری بار انتظار کرینگے۔امریکی حکام نے کہا ہے صدر ٹرمپ ایران کیخلاف معطل کی جانیوالی اقتصادی پابندیوں کوبرقرار رکھیں گے اور2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ خطرہ میں نہیں پڑیگا۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے اپنے امریکی ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کیساتھ طے پانیوالے عالمی جوہری معاہدے کا احترام کیا جانا چاہیے۔ میکخواں نے کہا یہ ڈیل اہم ہے اور اسے حتمی شکل دینے والے تمام ممالک کو اس پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ قبل ازیں ایران نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کردیگا۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ایران کے جوہری معاہدے کو کمزور کرنے کا کوئی بھی اقدام قابل قبول نہیں۔
دوسری طرف غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے احتجاج کے خوف سے اپنا دورہ برطانیہ منسوخ کردیا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ برطانیہ میں ان کا پرجوش استقبال نہیں کیا جائے گا۔ امریکی صدر کی جگہ اب سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹلرسن برطانیہ جائیں گے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے فروری میں 750 ملین پاونڈز کی لاگت سے لندن میں تعمیر ہونے والے سفارت خانے کی عمارت کا افتتاح کرنا تھا، تاہم انہوں نے اس پروگرام کو اس وجہ سے ترک کردیا ہے کہ وہاں ان کا استقبال اچھی طرح نہیں کیا جائے گا اور دوسری جانب وہ ملکہ برطانیہ سے بھی ملاقات نہیں کرپائیں گے۔