چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انصاف کی فراہمی میں پنجاب کو سرفہرست قرار دے دیا


کراچی (24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے انصاف کی فراہمی میں پنجاب کو سرفہرست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آتا ہے، پنجاب میں ماڈل کورٹس بنائی گئیں ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا ہے جس کی وجہ سے تیز رفتاری کے ساتھ مقدمات نمٹ رہے ہیں، اور مقدمات تیزی سے نمٹنے کا فائدہ براہ راست سائلین کو پہنچے گا۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ دنیا بھر میں شکایات رہتی ہیں کہ مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے، لوگ اس امید پر عدالت میں آتے ہیں کہ شاید آج ان کے کیس کا فیصلہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آتا ہے، پنجاب میں ماڈل کورٹس بنائی گئیں ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا گیا ہے جس کی وجہ سے تیز رفتاری کے ساتھ مقدمات نمٹ رہے ہیں، اور مقدمات تیزی سے نمٹنے کا فائدہ براہ راست سائلین کو پہنچے گا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں عدالتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جتنے بھی زیر التوا کیسز ہیں ان کا بخوبی انداز ہے، ایک کوشش کی جاسکتی ہے کہ اسی قانونی دائرے اور ان ہی ججز کی تعداد کی ساتھ ہر جگہ قانون کے مطابق جلد کام کریں۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لوگوں کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے، لوگوں کو شکایت ہےکہ جلد انصاف نہیں ملتا جب کہ دنیا بھر میں شکایات رہتی ہیں کہ مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مجھے سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آیا ہے، وہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کوبروئے کار لایا گیا ہے، پنجاب میں ماڈل کورٹس بنائی گئی ہیں، ہم مقننہ نہیں، ہم قانون سازی نہیں کرسکتے، قانون سازی اور اصلاحات قانون سازوں کا کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں جانے کے ڈر سے بہت سے لوگ مسئلہ خود حل کرتے ہیں لیکن یہاں معاملہ عدالت لے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ عدالت میں دیکھ لوں گا،معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس جب سپریم کورٹ میں آتا ہے توپتا چلتا ہے وہ بے گناہ ہیں، جیل میں ایک سال گزارنا بھی مشکل ہے، جنہوں نے کئی سال جیلوں میں گزارے ان کا کیا کریں، اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات کی مہم کو تیز کرنا ہے، مقدمات تیزی سے نمٹانے کا براہ راست فائدہ سائلین کو ہوگا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کتنے کیسز زیر التوا ہیں، کیا ایک جج کے لیے ممکن ہے کہ اتنے قلیل وقت میں کیس کا فیصلہ سناسکے؟ ٹرائل کے لیے ججز کے پاس 150 سے 145 کیسز زیرسماعت ہیں، 2 منٹ سے زائد وقت ایک کیس میں لگتا ہے، کیا ایک جج صاحب کے پاس اتنا وقت ہے؟ کیس میں تاخیر کا الزام آخر کار عدلیہ پرہی آتا ہے، جج ان مقدمات کو نمٹا نہیں سکا تو کیا قصور وار ہے، کیا ڈسٹرکٹ اورسول جج کام نہیں کررہے؟
جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جمہوریت میں اہم ہے ہم کسی کام میں دخل اندازی نہ کریں، کیا قوانین کوپارلیمنٹ سے اپڈیٹ کیا گیا ہے؟ کسی کومورد الزام نہیں ٹھہرارہا، ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ پنجاب کے علاوہ پاکستان میں کہیں بھی معیاری فرانزک لیب نظرنہیں آئی، کروڑوں روپے کی پراپرٹی زبانی طور پر ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے کلک کریں