ڈائری لکھنے کی خوبصورت روایت کیلئے جدید ٹیکنالوجی زہرِ قاتل

ڈائری لکھنے کی خوبصورت روایت کیلئے جدید ٹیکنالوجی زہرِ قاتل


اسلام آباد (24 نیوز) ماضی میں ڈائری لکھنا ایک مقبول عام مشغلہ تھا، لیکن دور جدید میں لوگوں نے اپنی یادداشتیں ڈائری میں محفوظ کرنا بھی ترک کر دیا۔

جیسے جیسے نیا دور نئی ٹیکنالاجی ہر گھر کی ضرورت بن رہی ہے۔ ویسے ہی لوگوں میں ڈائری لکھنے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے۔ وقت کی کمی نے لوگوں کو جہاں ڈائری لکھنے سے دور کیا وہیں جدید ٹیکنالوجی کے آنے سے نئی نسل کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈائری لکھنا ہوتا کیا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: 2017 میں پاکستان کے انمول نگینے ہم سے جدا

ڈائری لکھنے کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ڈائری کی جگہ کمپیوٹر اور موبائل فون نے لے لی ہے تو دوسری طرف والدین کے پاس بھی اتنا وقت نہیں کہ وہ خود ڈائری لکھیں یا بچوں کو اس سے آگاہ کریں۔

ڈائری لکھنے کی ختم ہوتی روایت کو بچانے کے لئے ہمیں ڈائری لکھنے کے عمل، اس کی افادیت کو اجاگر کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم لکھتے رہیں گے تو ڈائری کا سفر بھی جاری رہے گا اگر لکھنا رک گیا تو ڈائری کا یہ سفر بھی رک جائے گا۔