معصوم کلیوں سے زیادتی ، قتل کے واقعات قصور میں کب شروع ہوئے؟


قصور (24 نیوز) زینب کے علاوہ بھی اور زینب ہیں۔ 24نیوز بیٹیوں کے والدین کا غم بانٹنے سب سے پہلے ا ن کے گھر پہنچا۔ قصور میں بچیوں سے درندگی کا آغاز عائشہ سے ہوا۔ قصور ہی کی راج دلاری لائبہ کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ تہمینہ کی لاش بھی درندے کچرے میں پھینک کر چلے گئے۔ ایک اوربچی ایمان فاطمہ کے ساتھ جڑی درد بھری کہانی بھی اس اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

تفصیلات کے مطابق زینب قتل واقعہ پر پورا پاکستان ہی اضطراب اور رنج و الم کی کیفیت کا شکار ہے۔ ٹوئنٹی فور نیوز قصور میں درندگی کا نشانہ بننے والی بیٹیوں کے والدین کے آنسو پونچھنے اور انصاف کا علم بلند کرنے میں سب سے آگے ہے۔ 24 نیوز کی نمائندہ 6 متاثرہ بچیوں کے پہنچیں تو وہاں چھائی دکھ کی شام کے احوال بتاتے خود بھی آب دیدہ ہو گئیں۔

متعلقہ خبر: قصور: زیادتی کا نشانہ بننے والی 12کلیوں میں لائبہ بھی شامل

24 نیوز کو ملنے والی معلومات کے مطابق قصور میں جاری معصوم بچیوں سے درندگی کی کہانی کا آغاز پانچ برس قبل جس بچی کے خون سے ہوا، اس کا نام عائشہ تھا۔ پانچ برس کی عائشہ کو زیادتی کے بعد ایک زیر تعمیر مکان میں گلا دبا کر قتل کر دیا گیا۔

بلھے شاہ کی نگری میں جن بارہ کلیوں کو مسلا گیا ان میں ایک لائبہ بھی شامل تھی۔ معصوم لائبہ منو ں مٹی کے نیچے انصاف کی منتظر ہے۔ اس بچی کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ لائبہ کے والد کا کہنا ہے کہ اس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زیادتی و قتل کے ملزمان سے نمٹنے کیلئے سیف سٹی منصوبہ قصور پہنچ گیا

نمائندہ 24نیوز ایک اور بدقسمت بچی تہمینہ کے گھر بھی پہنچیں جس کی لاش کو درندے کچرے میں پھینک گئے۔ اس ننھی تتلی کے پر کاٹ کر خون سے رنگین کر کے نوچا گیا۔

ان معصوم کلیوں میں ایک کا نام ایمان فاطمہ ہے۔ اس گھر والوں کے آنسوؤں میں چھپا دکھ بھی کم نہیں تھا۔ بیٹوں کا غم والدین کو زندہ مار دیتا ہے جس کی مثال ایمان فاطمہ کے والد کو دیکھ سچ نظر آ رہی تھی۔

مزید دیکھیں: