نواز شریف،مریم نواز اڈیالہ جیل منتقل

نواز شریف،مریم نواز اڈیالہ جیل منتقل


لاہور(24نیوز) ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی ٹیم نے لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کرلیا۔دونوں ن لیگی رہنماؤں کو خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا ہے جہاں سے نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل لے جایا گیا۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مریم نواز اور نواز شریف کے پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

نواز شریف اور دیگر ملزمان کے جیل ٹرائل کا حکم دے دیا گیا جس کا نوٹیفیکیشن وزارت قانون نے جاری کردیا ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق احتساب عدالت کی آیندہ کارروائی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کی وطن واپسی پر مسلم لیگ ن نے کیا پلان بنایا؟ 24نیوز نے پتہ لگالیا

تفصیلات کے مطابق میاں نواز شریف اپنی صاحبزادی کے ہمراہ طیارہ کے ذرہعہ لاہور ایئرپورٹ پہنچے جہاں نیب کی ٹیم اور ایف آئی اے حکام نے ان کو تحویل میں لے لیا۔ امیگریشن عمل مکمل ہونے کے بعد دونوں ملزمان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے جبکہ انھیں گرفتار کر کے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ جس طیارہ سے وہ علامہ اقبال ایئرپورٹ پر اترے اس کو لینڈ کرنے کے بعد ہائی ٹرمینل کی جانب لایا گیا۔ یاد رہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کو 6 جولائی کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی۔ جس کو 8 روز گزر چکے ہیں۔ شریف خاندان کی جانب سے اپیل دائر کرنے کے لیے دو دن باقی ہیں۔

ابوظہبی سے روانہ ہونے کے بعد دونوں رات ،ابوظہبی میں نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کی رپورٹس پر پاکستانی سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں اور نہ ہی انہیں نیب کی ٹیم کی متحدہ عرب امارات آمد کی کوئی اطلاع ہے،سفارتی حکام کے مطابق ابوظبہی میں گرفتاری کے لیے کوئی قانون موجود نہیں، کسی ملزم یا مجرم کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی قوانین و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتے ہیں۔


قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرنے کے لیے 16 رکنی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے، نیب حکام کے مطابق دو ٹیمیں لاہور ایئرپورٹ اور دو ٹیمیں اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات کردی گئی ہیں جبکہ دو ہیلی کاپٹرز بھی لاہور ایئرپورٹ پہنچا دیئے گئے ہیں،حکام کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرنے کے بعد اسلام آباد لایا جائے گا جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا۔نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کیلئے نیب کی تین ٹیمیں لاہور ائیر پورٹ،اسلام آباد ائیر پورٹ اور راولپنڈی اولڈ ائیر پورٹ پہنچ گئی ہیں،دونوں کے ملک پہنچتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔


چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے والوں کےخلاف کارروائی کی جائے گی اور احتساب عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرائی جائے گی۔
دوسری جانب روانگی سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'جیل کی کوٹھڑی اپنے سامنے دیکھ کر بھی پاکستان آرہا ہوں، وہ بھی سن لیں جو دعویٰ کر رہے تھے کہ وطن واپس نہیں آوں گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ '25 جولائی کا الیکشن سب سے بڑا ریفرنڈم ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں: مریم اور حسین نواز کے بیٹے جنید صفدر اور ذکریہ شریف ایون فیلڈ لندن سے گرفتار
خیال رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال اور جرمانہ، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 سال قید اور جرمانہ جبکہ داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایک برس قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کو پہلے ہی گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا جاچکا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز ابوظہبی میں قیام کے بعد اڑھائی گھنٹے تک پاکستان کیلئے نکلیں گے۔

یہ ویڈیو بھی دیکھیں:


مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کردئیے گئے ہیں،خواجہ سعد رفیق،وحید عالم،بلالیاسین،میاں مرغوب احمد اور دیگر رہنماﺅں کو گھروں میں نظر بند کرنے کیلئے آئی پنجاب نے مراسلہ جاری کیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہےکہ (ن) لیگی رہنماؤں کی وجہ سے شہر میں نقص امن اور توڑ پھوڑ کا خدشہ ہے، (ن) لیگی افراد کی تقاریر سے اشتعال پسندی کو بھی فروغ ملے گا۔اس کے علاوہ مسلم لیگ کے رہنما حاجی رانا بختیار کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے اور ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر سے 141کارکنوں کو جیل میں بند کیا گیا ہے،نواز شریف ،مریم نواز کیلئے اور جیل میں سیل نہیں بنایا گیا ان کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت برداشت کر لیا جو بھی ہوجائے میں تیارہوں فیصلہ کرنے والے الگ سنانے والے الگ ہیں ہر شخص کو جواب دینا ہو گا نگران حکومت کسی کے کہنے پر کارروائی کر رہی ہے۔