سینیٹ نے پشاور دہشت گردی واقعہ پرنگران حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی

سینیٹ نے پشاور دہشت گردی واقعہ پرنگران حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی


پشاور ( 24نیوز ) سینیٹ نے پشاور دھشت گردی واقعہ پرنگران حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی جبکہ چئیرمین سینیٹ نے ہارون بلور پر حملے کی تمام ایجنسیز سے رپورٹ طلب کرلیں۔

سینیٹ اجلاس میں نگران وزیر داخلہ اعظم خان نے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال صوبوں کا معاملہ ہے۔ ہارون بلور کو چائے کی دعوت پر مدعو کیا گیا۔ جب ہارون بلور پہنچے تو آتش بازی جاری تھی۔ اسی دوران خود کش حملہ ہوا۔

 جس میں 22 افراد ہلاک 75 زخمی ہوئے۔ ہارون بلور کا گن مین بھی ہلاک ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لیڈران کی جان کو خطرہ ہے جس کا نیکٹا کے ذریعے بتایا گیا تاہم ہارون بلور کی جان کو خطرہ نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پی ایس پی امیدواروں کا ووٹ مانگنے کا انوکھا انداز 

اجلاس میں شیری رحمان، رضا ربانی، حاصل بزنجو، نعمان وزیر، شبلی فراز اور دیگر نے احتجاج کیا اور کہا کہ جو بریفنگ دی گئی یہ اخباری خبر ہے یہ بتایا جاۓ کہ سکیورٹی ایجنسیز کی رپورٹ کیا ہے۔ اگر سیاسی رہنماوں کو خطرہ تھا تو حکومت نے کیا کیا۔سینٹر رضا ربانی نے کہا کہ میں فاضل وزیر سے پوچھتا ہوں 200 سے زائد کالعدم تنظیموں کے لوگوں کو الیکشن کی اجازت کیسے ملی۔ الیکشن کمیشن نے ان افراد کو کیسے کلئیر کیا؟ اکرام درانی معاملے پر نگران وزیر داخلہ نے کہا کہ اکرم درانی محفوظ ہیں۔ جلسے کہ بعد حملہ ہوا ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:نواز شریف کے قریبی ساتھی کو بھی گھیرا ڈالنے کی تیاریاں شروع 

نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف میں ڈالنے کے معاملے پر ایوان کو بتایا کہ ابھی گرے لسٹ میں ہیں بلیک لسٹ سے بچنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ہمیں تین ماہ میں فنانشنل ٹاسک فورس گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ستمبر تک کچھ پالیسی اقدامات اٹھانے ہونگے اداروں کے آپریشنل چیلنجز کو ختم کرنا ہو گا تاہم سیاسی تعاون بہت ضروری ہے۔

یہ خبر ضرور پڑھیں:بلاول کے جہاز کو لاہور ایئرپورٹ سے روک دیا گیا 

اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو مالی معاونت کیلئے مزید پالیسی اقدامات اٹھائیں گے ۔پاکستان نے پہلے ہی دہشتگردوں کی مالی معاوننت روکی ہے ان کے اکاونٹس فریز کیے ہیں سینٹ کا اجلاس پیر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔روزینہ علی ٹوئنٹی فور نیوز اسلام آباد