مہدی حسن کو مداحوں سےبچھڑے سات برس بیت گئے

مہدی حسن کو مداحوں سےبچھڑے سات برس بیت گئے


لاہور(24 نیوز) شہنشاہِ غزل استادمہدی حسن کو ہم سےبچھڑے سات برس بیت گئے،مگراُن کافن آج بھی زندہ ہے، ان کانام اور ان کی آوازکسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔

 سنگیت کی دنیا میں کئی دہائیوں تک راج کرنے والے مہدی حسن 1927ء میں بھارتی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے ،انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔

1947ء میں مہدی حسن اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا، مہدی حسن نے گلوکاری کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا اور 1957میں ریڈیو پاکستان ہی سے گائی ایک ٹھمری نشر ہونے کے بعد موسیقار حلقوں کی توجہ حاصل کی۔ 

کئی دہائی پر محیط اس سفر میں مہدی حسن نے مجموعی طور پر پچیس ہزار سے زائد فلمی وغیرفلمی گیت، نغمے اور غزلوں میں آواز کا جادو جگا کر انھیں امر کردیا اور دنیا بھر میں بے مثال شہرت اور عزت پائی۔ 

مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازا گیا۔ بھارت میں انھیں سہگل ایوارڈ جبکہ حکومت نیپال نے مہدی حسن کو گورکھا دکشنا بہو کا اعزاز سے نوازا۔ مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012ء کو کراچی میں ہوا جہاں وہ آسودہ خاک ہیں۔

Malik Sultan Awan

Content Writer