نیازی اور زرداری مل کر بھی ہم پر بھاری نہیں ہوسکتے: شہباز شریف


اسلام آباد (24 نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کا شیرازہ اس وقت بکھرنا شروع ہوا جب نواز شریف پارٹی صدارت سے نا اہل ہوئے۔ اگلے پارٹی صدر کا فیصلہ بھی آج ہو گیا ہے۔

24 نیوز کے مطابق ن لیگ کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون پارٹی صدر ہو گا۔ پہلے میاں نواز شریف صدر بنتے تھے تو صرف ان ہی کے کاغذات نامزدگی جمع ہوتے تھے۔ یہ ن لیگ کی بہت پرانی روایت رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صادق سنجرانی چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب, حلف اُٹھا لیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک کمیشن بنایا جاتا ہے جس کی موجودگی میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاتے ہیں اور کمیشن اس کی تحقیقات کرتا ہے۔

اسلام آباد کنونشن سینٹر میں مرکزی جنرل کونسل میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ صدر کون منتخب ہوا ہے۔ خبریں سچ ثابت ہوئیں اس بار میاں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے پارٹی  صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

تفصیلات اس ویڈیو میں: 

 مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا کہ ہمارے لیڈر نواز شریف سے زیادتی ہوئی ہے، لیکن وہ دن ضرور آئے گا جب سابق وزیراعظم نواز شریف سے کی گئی زیادتی کا ازالہ ہوگا، وہ دن ضرور آئے گا جب نواز شریف کو انصاف ملے گا'۔

شہباز شریف نے کہا کہ 'نواز شریف کو قائداعظم کا سیاسی وارث قرار دیا جاسکتا ہے,ساتھ ہی انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں عمران خان اور آصف علی زرداری کے مبینہ گٹھ جوڑ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'نیازی اور زرداری مل کر بھی ہم پر بھاری نہیں ہوسکتے'۔

دانیال عزیز کی شامت آگئی،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنادیا

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 'کیسی ہی ساز باز ہو، کیسی ہی جعلسازی کیوں نہ ہو، لیکن ہمیں اپنے اوپر کامل یقین ہے,ہمیں معاشرے میں غریب اور امیر کے فرق کی بنیاد پر خطرناک صورتحال کو ختم کرنا ہے'۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کا اجلاس ہوا، جہاں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد تھی۔

اجلاس کے آغاز کے موقع پر کچھ بدنظمی بھی دیکھنے میں آئی اور کارکنان نے ہال کے دروازے اور ایک واک تھرو گیٹ کو بھی توڑ دیا جبکہ دھکم پیل کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے تقریباً 10 کارکنان بھی زخمی ہوئے۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں