آئس لینڈ بغیر فوج کے نیٹو کا حصہ کیسے؟ آپ بھی جانئے

آئس لینڈ بغیر فوج کے نیٹو کا حصہ کیسے؟ آپ بھی جانئے


(24نیوز) نیٹو فوجی اتحاد کا نام ہے اور حیران کن طور پر آئس لینڈ واحد ملک ہے جو  بغیر فوج کے نیٹو کا حصہ ہے۔

آئس لینڈ کے پاس 1869 سے کسی فوج کا وجود تک نہیں ہے، زمینی ، فضائیہ اور نہ ہی سمندری فوج اس ملک میں ہے, اس کے باوجود یہ نیٹو کا حصہ ہے ۔ کتنی دلچسپ بات ہے کہ نیٹو ایک فوجی اتحاد کا نام ہے اور آئس لینڈ بغیر فوج کے اس میں شامل ہے۔دراصل 1949 میں نیٹو کے قیام کے وقت ہی آئس لینڈ اس کا حصہ بن چکا تھا لیکن اسے کیوں شامل کیا گیا یہ مسئلہ تاحال متنازعہ ہے۔

نیٹو کیا ہے؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے مابین ایک معاہدہ ہوا جسے معاہدہ شمالی بحر اوقیانوس ( نیٹو ) کا نام دیا گیا۔ نیٹو  1949 میں بننے والی ایک ایسی تنظیم ہے جس میں امریکا اور کینیڈا سمیت تمام مغربی یورپی ممالک شامل ہیں۔ نیٹو ایک ایسا فوجی اتحاد ہے جو امریکا کی سرپرستی میں پوری دنیا میں فوجی حکمرانی کر رہا ہے۔ نیٹو کا مقصد یورپ میں امن کو قائم رکھنا ہے اور اس مقصد میں یہ ممالک کافی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ نیٹو کو قیام میں لانے والے 8 ممالک تھے اور اس کے قیام کے وقت آئس لینڈ بھی اس کا حصہ تھا جبکہ اب ان ممالک کی تعداد 29 ہوچکی ہے۔ نیٹو   North Atlantic Treaty Organisation کا مخفف ہے۔

آئس لینڈ کا تعارف

آئس لینڈ  کا سرکاری نام جمہوریہ آئس لینڈ ہے ، یہ ایک جزیرہ نما ہے جو شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔  جولائی 2008 کی ایک رپورٹ کے مطابق  اس کی آبادی 311396 ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔