سچ کا گلا گھونٹنے کی کوشش

مناظرعلی

سچ کا گلا گھونٹنے کی کوشش


صحافی کا کام سچ کوسب کے سامنے لاناہوتاہےیہی وجہ ہے کہ میڈیا کی آزادی کےسبب آج دنیابھرمیں ہونے والے واقعات ہرکوئی آسانی سے پڑھ اوردیکھ سکتاہے مگربدقسمتی سے بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کامظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی صحافیوں کوبھی تنگ نظری سے ہی دیکھاہے،حالانکہ بھارتی صحافیوں کوپاکستان میں ایسی کسی صورتحال کاسامنانہیں ہوتااوروہ پاکستان کے دورے کے بعدیہاں کی مہمان نوازی اورپیشے کے حوالے سے کام کی آزادی کی تعریف کرتے ہی واپس روانہ ہوئے ہیں۔کچھ عرصہ قبل جب پاکستان نے قیام امن کیلئے ایک مثال قائم کرتے ہوئے کرتارپور راہدی کھولنے میں پیشرفت کی توتقریب میں شرکت کیلئے جہاں دیگربھارتی مہمان پاکستان آئے وہیں تقریبا تیس کے قریب بھارتی صحافیوں کواس تقریب میں شرکت کیلئے ویزے جاری کیے گئے اورانہیں یہاں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا موقع ملاجب کہ پاکستانی وزیرخارجہ نےانہیں عشائیہ بھی دیا،یہ سب کچھ آن ریکارڈ ہے ایک بھی بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر۔۔۔اب جب کہ کرتارپور راہدی کے معاملے پرپاکستان اوربھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھرمذاکرات ہونے جارہے ہیں اورایسے میں پاکستانی صحافیوں کوبھارت کی جانب سے ویزے جاری نہ کرناانتہائی افسوسناک ہے اورسمجھ سے بالاترہے کہ آخربھارت پاکستانی صحافیوں کوان مذاکرات کی کوریج کی اجازت کیوں نہیں دیناچاہتا؟؟

پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران جس طرح بھارتی میڈیانے یکطرفہ رپورٹنگ کی اورجھوٹ پرجھوٹ بولتے ہوئےدنیاکومرضی کاتاثردینے کی کوشش کی،اس روش سے لگتایوں ہے کہ جیسے کرتارپورمذاکرات پربھی مودی سرکار اپنے جھوٹے میڈیاسے مرضی کی رپورٹنگ کراناچاہتی ہے،وہ شایدپاکستانی صحافیوں کواس لیے کوریج سے دور رکھناچاہتی ہے کہ پاکستانی مٰیڈیابھی کہیں ان کے دیش میں گھس کرانہیں ان کی حیثیت ہی نہ دکھادے،حالانکہ صحافی کا کام سچ دکھاناہے اوراگرپاکستانی صحافی ان مذاکرات پربھارتی حکمرانوں کے رویئے پرسچ دنیاکودکھابھی دیں گے توکیانیاکریں گے؟؟۔۔کیادنیابھارت کے مکروہ چہرے کوپہلے نہیں جانتی؟؟

مودی سرکارسے توکوئی سمجھداری کی توقع نہیں کی جاسکتی مگرچندانڈیا کے ہی سمجھدارلوگ توبھارتی حکومت کویہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ جب انڈین صحافی اسی طرز کے ایونٹ پرپاکستان جاسکتے ہیں توپھرپاکستانی صحافیوں کے بھارت میں آکرکوریج کرنے میں کیاخدشہ ہے؟؟اگرخطے میں امن چاہیے اوراس مقصد کیلئے واقعی بھارت سرکار سنجیدہ ہے توپھرایسی حرکتیں کرکے وہ کیاثابت کرلیں گے؟؟۔۔ سچ چھپا لیں گے؟؟۔۔۔نہیں ۔۔ایساممکن نہیں ہے،،اگرپاکستانی صحافیوں کوبھارت ویزے جاری نہیں بھی کرے گاتوسچ چھپانامشکل ہوگا،میں اب کہہ رہاہوں اوریہ وقت بھی ثابت کرے گا کہ سچ دنیاکوپہلے بھی نظرآیا،اوراب بھی اظہرمن الشمس ہوگا،مودی سرکار کی جانب سے سچ کاگلاگھونٹنے کی کوشش ناکام ہوگی۔۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔