'' میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے '' عالمی دن پرماں تجھے سلام

'' میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے '' عالمی دن پرماں تجھے سلام


اسلام آباد(24نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد اپنی جنت جیسی ماں کو خراج عقیدت، محبت، شکر گزاری اور ان کی عظمت کو سلام پیش کرنا ہے۔

ماؤں کے دن کی بات کی جائے تو اس کی تاریخ کافی قدیم ہے ۔ 16وین صدی میں ایسٹر سے 40 روز قبل انگلستان میں ایک دن "مدرنگ سنڈے" کے نام سے منایا جاتا تھا۔ 1872 میں امریکہ میں مدر ڈے کا آغاز کیا گیا۔ 1907 میں فلاڈیفیا کی خاتون اینا ہاروس نے اس دن کو ماؤں کیلئے وقف کرنے کی کوشش کی وہ چاہتی تھیں کہ اس دن کو اہمیت دی جائے اور ماؤں کو تحائف اور محبت دے کر انھیں اہمیت سی جائے۔ اور بالاآخر ان کی کوششیں رنگ لے آئیں اور 8 مئی 1914 کو امریکا کے صدر ووڈرو ولسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو سرکاری طورپر ماؤں کا دن قرار دیا، جس کے بعد سے آج تک ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو "ماؤں کا عالمی" (مدرڈے ) منایا جارہا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس دن کو آج منایا جارہا ہے لیکن اس دن کے حوالے سے ہمارے لوگ دو مختلف حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، ایک طبقہ ہے جو کہتا ہے کہ آج کادن ماؤں کی خدمت کرنی چاہیے کیوں کہ اہم دن ہے جبکہ دوسرے طبقہ کہتا ہے کہ ماﺅں سے محبت کے لیے کوئی ایک دن نہیں بلکہ اس ہستی کےلیے سال کے 365 دن ہی محبت کے ہوتے ہیں۔

مدر ڈے کیسے منایا جائے؟

دنیا کی خوبصورت ترین ہستی کا عالمی دن ہے۔ آج ماؤں کا عالمی دن ہے۔ ہم آپکو 6 ایسے طریقے بتارہے جن سے آپ آج کے دن کو یادگار بناسکتے ہیں۔

 مدرز ڈے پر سب سے پہلا کام یہ کریں کہ اپنی والدہ کو خود ناشتہ بناکر دیں۔ وہ ناشتہ جو انھیں سب سے زیادہ پسند ہو۔

ماں کبھی چھٹی نہیں کرتی۔ وہ 24 گھنٹے سال کے 365 دن آن ڈیوٹی ہوتی ہے۔ ماں کے ذہن میں دن بھر کی ایک لسٹ بنی ہوتی ہے کہ کیا کام کرنے ہیں۔ جیسا کہ کچن کی خریداری، لانڈری یا کچھ بھی۔ وہ سارے کام آپ کریں اور اپنی ماں کو آج پورا دن چھٹی کرائیں۔

ہرماں کو صاف ستھرا گھراچھا لگتا ہے۔ مدرزڈے پر آپ سارے گھر کی صفائی کرکے دکھائیں۔

صفائی کے ساتھ چیزوں کا رکھ رکھاؤ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مدرز ڈے پر گھر کی خاص جگہوں جیسے ڈرائنگ روم، ٹی وی لاؤنج یا کامن روم، ان میں تھوڑی بہت ردوبدل کردیں لیکن اپنی ماں کی چوائس کے مطابق۔

مدرزڈے پر اپنی والدہ کو اچھے سے بیوٹی سیلون میں لے کرجائیں۔ ان کا ہئیرکٹ کرائیں، میڈی کیور، پیڈی کیورکرائیں، جس جس چیز کی انھیں ضرورت ہے وہ سب کرائیں۔

اورآخرمیں کوئی پرانی فیملی فوٹو جو آپکی والدہ کو بہت عزیز ہو، اسے فریم کروا کر گھرکی دیوار پر لگادیں۔ اسے دیکھ کر یقیناً آپ کی والدہ بےحد خوش ہوں گی۔

آئیے اب ہم آپکو مختلف شہروں میں چند عظیم ماؤں کے بارے میں بتاتے ہیں

ماں بہت بڑی ہستی ہے، حیدرآباد کے علاقہ گرونگر میں ایک ماں پرچون کی دکان چلاتی ہے۔ شہلا پر شادی کے ایک سال بعد ہی ظلم کے پہاڑ ٹوٹے جب اس کا اکلوتا بچہ چل بسا۔ چند عرصے بعد شوہربھی خالق حقیقی سے جا ملا۔ شہلا نے ان حالات میں اپنے بھائی کے بیٹے کو گود لیا۔ اسی سے وہ اپنی اولاد کی تسکین محسوس کرتی ہے۔ چھوٹی سی دکان چلاکر خود کا اور اپنے بچے کا پیٹ پالنے والی خاتون شہلا تمام ماؤں کے لیے ایک مثال ہے۔ جس نے حالات کی سختیوں کو خود پر ہاوی نہیں ہونے دیا۔

اب ہم آپکو دوسری مان کے بارے میں بتاتے ہیں۔ یہ ہیں پشاورکی 50سالہ نورین جسے ماؤں کےعالمی دن کی خبرنہیں، اسے تو بس اپنےدو معذور بچوں کو پالنےکی فکر دامن گیر ہے۔ نورین کا شوہر 6 برس قبل وفات پاگیا تھا۔ کرایےکے چھوٹے سے گھر میں سکونت پذیر نورین کو معلوم تک نہیں کہ ماؤں کا عالمی دن ہوتا کیا ہےِ؟ نورین اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے دکان چلاتی ہے جہاں صبح سویرے اٹھ کر چھولے بنا کر دکان پر لگاتی ہے اس کام میں اس کی گونگی بہری بیٹی فرحت اس کی مدد کرتی ہے۔ نورین کا کہنا ہے کہ عالمی دن کا کچھ پتہ نہیں، بس یہ جانتی ہوں کہ زندگی کی گاڑی بڑی مشکل سے چل رہی ہے۔ کاش کوئی ہمیں بھی پوچھنےوالا ہوتا۔

اس طرح کی کافی مائیں ایسی ہیں جن کی اولاد ان کے چھوڑ کے جاچکی ہے اور خود محنت کر کے عزت کی روٹی کما رہی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ اپنی عظیم ماں کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان ماؤں کی بھی امداد کریں ان کا بھی خیال رکھیں جو اولاد کی نعمت سے محروم ہیں، ان کو بھی اولاد کی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔

اولڈ ہومز

دنیا بھر میں کافی عرصے سے اولڈ ہومز کا وجود ہے لیکن پاکستان میں بھی گزشتہ چند سالوں سے بدقسمتی سے اولڈ ہوم بنانے کی ضرورت پڑ گئی۔ لوگوں کے گھروں میں اپنے ہی والدین کے لیے جگہ کی کمی ہونے لگی حالانکہ اگر اصلیت دیکھی جائے تو گھر نہیں ان کے دلوں میں کمی آنے سے وہ اپنے والدین کو اولڈ ہومز بھیج دیتے ہیں، پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اولڈ ہومز بنا دیے گئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق کراچی میں تقریبا پچاس افراد کو اولڈ ہومز میں داخل کریا جاتا ہے۔ اس عالمی دن پر اولڈ ہومز میں قیام پذیر مائیں اپنی بیٹوں کی راہ تک رہی ہیں کہ کب ان کا جگر کا ٹکڑا آکر ان سے گلے ملے گا۔

ارکان پارلیمنٹ کا ماؤں کو سلام 

  ماں تجھےسلام، اراکین پارلیمنٹ نے بھی مدرز ڈے پر اپنی ماوں سے اظہارمحبت کیا۔ اراکین کا کہناہےکہ ماوں کے طفیل ہی وہ آج اس مقام پر پہنچے ہیں۔تمام مائیں اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں کہ وہ بہترین شخصیت بن جائیں۔
 ویڈیو دیکھیں: 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔