نواز شریف کے انٹرویو پر ہنگامہ برپا،چودھری نثار بھی میدان میں آگئے

نواز شریف کے انٹرویو پر ہنگامہ برپا،چودھری نثار بھی میدان میں آگئے


راولپنڈی( 24نیوز )سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ملتان جلسے کے بعد ایک قومی اخبار کو ا نٹرویو دیا جس میں ملک کے اداروں پر سوال اٹھایا گیا۔
ان میں سے ایک سوال عسکری تنظیموں کے بارے میں بھی تھا جس پر نواز شریف نے کہا ہے کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتاہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150لوگوں کو قتل کر دیں، یہ عمل ناقابل قبول ہے، انہی وجوہ کی بنا پر ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر ملک میں دو یا تین متوازی حکومتیں ہوں توآپ ملک نہیں چلا سکتے، پارٹی چھوڑنے والے گئے نہیں لے جائے گئے ہیں، دوبارہ حکومت ملی تو اپنی پالیسیاں جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ”ناجائز اختیارات کیوں استعمال کیے“نیب نے نواز شریف کو طلب کرلیا

ان کے اس انٹرویو کو لے کر بھارتی میڈیا نے ہنگامہ برپا کیا ہوا ہے،عرب میڈیا بھی اس حوالے سے ان کا ساتھ دے رہا ہے،سوشل میڈیا پر مختلف ٹرینڈ چل رہے ہیں،نوازشریف کو پاکستان میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کو ملک کا میر جعفر اور میر صادق قرار دیا ہے-

ایسے میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی میدان میں آگئے ہیں انہوں نے نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے واقعے کو پاکستان کو بدنام کرنے کیلیے استعمال کیا، بطور وزیرداخلہ ممبئی حملہ کیس کے تمام مراحل سے مکمل طور پر آگاہ ہوں، ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات کر رہا تھا جو وزارتِ داخلہ کا ماتحت ادارہ ہے، چونکہ واقعہ بھارت میں ہوا اس لئے 90 فیصد شواہد اور حقائق بھی ہندوستان کے پاس ہی تھے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ بھارتی حکومت ہماری عدالتوں کی جانب سے قائم کمیٹی سے تعاون کو بھی تیار نہیں تھی، پہلے مرحلے میں تو ہماری بنائی گئی عدالتی کمیٹی کو بھارت جانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور بعد میں مختلف حیلوں بہانوں سے شواہد اور حقائق دینے سے صاف انکار کردیا گیا، ممبئی حملوں کے کیس میں تعطل اور سست روی پاکستان کی وجہ سے نہیں بلکہ ہندوستان کی طرف سے عدم تعاون اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے کیس میں تاخیر ہوئی، یہی عدم تعاون اور ہٹ دھرمی ممبئی حملہ کیس کی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ ہے،بھارت ممبئی حملہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا اسی لئے اس نے واقعے کو پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا، بھارتی حکومت ہمارے تحقیقاتی ادارے کے ساتھ متعلقہ شواہد کے تبادلے سے گریزاں تھی، ہماری تحقیقاتی ٹیم کو ممبئی واقعے کے واحد زندہ ثبوت اجمل قصاب سے سوالات کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا بلکہ بھارتی حکومت نے کمال پھرتی سے اجمل قصاب کو پھانسی گھاٹ تک پہنچا دیا اور پھر واقعے کو سیاسی بنیادوں پر پاکستان کی بدنامی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان ہمارا لاڈلہ نہیں:چیف جسٹس،قرض معاف کرانیوالوں کو نوٹس
چوہدری نثار نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کے ہر واقعے پر ہندوستان سے مکمل تعاون اور معلومات کا تبادلہ کیا جب کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کا مظاہرہ کیا۔