فاٹا کی اضافی نشستوں کا بل متفقہ طور پر منظور



اسلام آباد (24نیوز)قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا بل میں ترمیم کا آئینی بل منظور کرلیا گیا جس کے تحت فاٹا کے ضم کردہ اضلاع میں خیبر پی کے  اسمبلی کی نشستوں میں دوگنا اضافہ ہوجائے گا۔آئینی ترمیم فاٹا سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پیش کی ہے۔

26ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری دی گئی،بل کی دوسری شق میں دو ترامیم منظور، ایک ترمیم رکن اسمبلی محسن داوڑ اور دوسری وفاقی وزیر نور الحق قادری نے پیش کی۔ دوسری شق میں ترمیم کے حق میں 281ووٹ آئے جبکہ کسی رکن نے مخالفت نہیں کی۔ بل کی تیسری شق میں ترمیم بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی۔ترمیم کے حق میں 282 ووٹ آئے جبکہ کسی نے مخالفت نہیں کی۔

وزیر اعظم اسد عمرسے  گفتگو کے دوران مسلسل مسکراتے رہے

 قومی اسمبلی میں 26 ویں رائے شماری رائے شماری میں وزیر اعظم عمران خان بھی ایوان میں موجود رہے، وزیر اعظم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر سے گپ شپ کرتے رہے،وزیر اعظم اسد عمر سے گفتگو کے دوران مسلسل مسکراتے رہے۔

قومی اسمبلی اجلاس ہم آہنگی کے ماحول میں بھی حکومتی اور اپوزیشن قیادت میں فاصلے برقرار  ہیں وزیر اعظم کی ایوان میں آمد پر کسی بھی اپوزیشن راہنما نے ہاتھ نہ ملایا۔ وزیر اعظم نے خود بھی اپوزیشن راہنماوں سے مصافحہ نہ کیا۔ خواجہ آصف باہر سے آئے تو وزیر اعظم نشست پر کھڑے تھے لیکن دونوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کیا۔ سپیکر اسد قیصر کو قانون سازی کے دوران مشکلات کا سامنارہا۔ وزیر اعظم سے ریاض فتیانہ، فرخ حبیب اور دیگر ارکان کی مختصر ملاقاتیں کیں، ارکان نے اپنے اپنے مسائل بارے آگاہ کیا۔

بلوچستان اور فاٹا کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے سب کو آگے بڑھنا ہوگا:وزیر اعظم 

وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے جتنا نقصان ہوا ہے اس کو صرف خیبرپختونخواہ پورا نہیں کرسکتا ،پورے ملک کو فاٹا بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور این ایف سی ایوارڈ سے 3 فیصد فاٹا کو دیں۔ مشرقی پاکستان اس وجہ سے علیحدہ ہوا کیونکہ ان میں احساسِ محرومی تھا احساسِ محرومی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی ، ہمیں اس محرومی کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن اس احساس محرومی کو بڑھا چڑھا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں ہمیں بلوچستان کی محرومیاں ختم کرنا ہونگی۔ ماضی سے ہمیں سبق سیکھنا ہوگا، مشرقی اور مغربی جرمنی میں جو اختلاف تھا وہ بھی بنیادی وجہ احساس محرومی ہی تھا فاٹا کا بل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس سے احساسِ محرومی ختم ہوگا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer