حکومت کے پاس اہلیت ہے نہ صلاحیت،منصوبہ بندی بھی نہیں:چیف جسٹس



اسلام آباد( 24نیوز ) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ اہلیت ہے اور نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی ہے،وہ بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق کیس کی سماعت کررہے تھے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی، رپورٹ کے مطابق 1960 کے نقشے کے مطابق بنی گالہ کے زون 4 میں سڑکیں ہیں، 1992 اور 2010 میں ترمیم کی گئی اور زون 4 کے کچھ علاقے میں نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں کو بھی اجازت دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی، ممکن ہے کہ آپ زیر زمین بجلی کی لائینیں بچھائیں اور ٹرینیں بھی چلانا چاہیں، اس کے لیے بھی آپ کو زمین چاہیے، چونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بنی گالہ میں سہولیات کے لیے زمین چاہیے، منصوبہ بندی کے تحت ڈیویلپمنٹ کرنا ہے تو زمین خریدنی پڑے گی، مالکان کو ازالہ ادا کرنا پڑے گا اور ریگولرائزیشن کے لیے پیسے دینا ہوں گے، اگر نیا شہر بنانا چاہتے ہیں تو سی ڈی اے زمینیں حاصل کرے، اس موقع پر نمائندہ سروے جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ 3.42 ملین سی ڈی اے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ( آئی سی ٹی ) نے دینے ہیں۔

چیف جسٹس نے صاف پانی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ 11 سال سے کم عمر بچے گندے پانی کے باعث مرتے ہیں،بخاری صاحب چارج ہو کر آئے ہیں فوجی خون ہیں انہیں بولنے دیں، نجی پانی کمپنی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 5 سال سے 30 فیصد افراط زر میں اضافہ ہوا، 158 ملین روپے ایک سال کی آمدن ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قوم گڑھے کا پانی پی لے گی، آپ اپنے منافع کی پرواہ کریں قوم کی پرواہ چھوڑ دیں،ہم قوم کے مسیحا ہیں آپ نہیں ہیں اگر سودا قبول نہیں ہے تو صنعت بند کرکے چلے جائیں۔

وکیل نے کہا کہ پھانسی دے دیں لیکن یہ نہ کہیں کہ منافع کیلئے کہہ رہا ہوں، 30 سال سے کمپنی چلا رہے ہیں، نیسلے پوری دنیا کی لیب ہمارے پانی کو ٹیسٹ کررہی ہیں، سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر احسن عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ جو بات میں کہوں گا وہ اصل میں قوم کی بات ہوگی، ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اربوں روپے کا پانی مفت استعمال کیا گیا کچھ تو واپس کریں،نمائندہ نیسلے نے جواب میں کہا کہ آپ یا صنعت بند کرجائیں گے یا پھر مواقع دے کر جائیں گے ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ رازق اللہ کی ذات ہے، تیس سال بعد آنے والی نسل کو پانی نا ملا تو کیا جواب دینگے، ہمت کریں فیکٹری بند کریں میں دیکھتا ہوں کتنی دیر بند رکھ سکتے ہیں۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer