سندھ حکومت فوڈ اتھارٹی کو فعال بنانے کیلئے متحرک ہو گئی  

سندھ حکومت فوڈ اتھارٹی کو فعال بنانے کیلئے متحرک ہو گئی  


کراچی( 24نیوز ) سندھ حکومت زہر خورانی سے دو معصوم بچوں کی ہلاکت کے بعد حرکت میں آگئی ،  سندھ اسمبلی کے تین ارکان کو بھی اتھارٹی میں شامل کرلیا گیا۔

 تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقہ زم زمہ جہاں دو مصوم پھول مرجھے تو حکومت بھی حرکت میں آگئی،  سندھ سرکار نے بلآخر سندھ فوڈ کنٹرول اتھارٹی کو بھی مکمل طور پر فعال بنا ہی دیا، سندھ فوڈ کنٹرول اتھارٹی میں اسپیکر سندھ اسمبلی کی منظوری کے بعد دو حکومتی ارکان ڈاکٹر سہراب خان سرکی، گھنور خان اسران اور ایم اکیو ایم کے رکن سنجے پاروانی کو اتھارٹی میں ممبر کے طور پر شامل کرکے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔  

اتھارٹی میں تین اسمبلی ارکان کو شامل کرنے کے بعد اتھارٹی میں ارکان کا تعداد 15 ہوگئی ہے،  سندھ حکومت کی جانب سے اتھارٹی کو مکمل طور پر فعال بنانے کے بعد یہ بااختیار ادارہ کام شروع کرسکے گا، اور اتھارٹی فیصلہ سازی کے عمل میں مکمل طور پر بااختیار ادارے کی حیثیت میں کام کر سکے گی۔

واضح رہے کہ کلفٹن میں زہر خورانی سے دو کمسن بھائی 5 سالہ محمد اور ڈیڑھ سالہ احمد جاں بحق ہو گئے تھے ، دونوں بھائیوں کا جناح ہسپتال میں پوسٹمارٹم کیا گیا اور کیمیکل ایگزامیز کی رپورٹ آنے تک رپورٹ محفوظ کرلی گئی،  دوسری طرف  سکیورٹی حکام نے دونوں بچوں کے جسم سے مختلف اجزا اور خون کے نمونے اور ریسٹورنٹ سے حاصل کئے گئے خوراک کے نمونوں کو تجزیئے کے لئے پرائیویٹ لیبارٹری بھجواد ئیے ہیں۔ ایم ایل او جناح ہسپتال کے ڈاکٹر شیراز کا کہنا تھا کہ  رپورٹ آنے میں 5 سے 10 روز لگیں گے جس کے بعد حتمی وجہ سامنے آسکے گی۔