"منرل واٹر کمپنیاں استعمال کیے گئے پانی کا بھی ٹیکس دیں ورنہ صنعت بند کردیں"



اسلام آباد(24نیوز) چیف جسٹس نے منرل واٹر کمپنیوں سے استعمال کئے گئے پانی پر بھی ٹیکس لینے کا حکم دیدیا۔ ریمارکس دیئے کہ کمپنیوں کو اگرسودا قبول نہیں توصنعت بند کرکے چلے جائیں, منرل واٹر کمپنیاں قوم کی مسیحا نہیں، اپنے منافع کی پرواہ کریں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں قوم کی نہیں بلکہ اپنے منافع کی پرواہ کریں،کمپنیاں قوم کا مسیحا نہیں،قوم گھڑے کا پانی پی لے گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تمام صوبوں میں ایک روپے فی لیٹرپانی چارجزپراتفاق ہونے کا بتایا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ڈیڑھ لیٹرکی بوتل 50 روپے میں فروخت ہوتی ہے،کمپنی کے نمائندہ نے پانی کی پیمائش کا یونٹ پوچھتے ہوئے کہاکہ ایک روپیہ فی لیٹر کے ایک کیوسک پر42 ملین روپے دینا پڑیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جتنا زیرزمین پانی پہلے استعمال کیا جا چکا ہےاس پربھی ٹیکس لیں گے، اگرسودا قبول نہیں ہے توصنعت بند کرکے چلے جائیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ پانی بیچنے والی کمپنیوں سے ایک روپیہ لیٹر نکالے گئے پانی پر لیویز کی مد میں وصول کیا جائے گا۔ ٹیم دس دن میں اپنی رپوٹ عدالت میں جمع کرائے گی, عدالت نے پانی کی کوالٹی چیک کرنے کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کو دس دن میں رپوٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔