سیب۔۔۔ایسا پھل جسے دل خود سلام کرتا ہے

سیب۔۔۔ایسا پھل جسے دل خود سلام کرتا ہے


قلات(آغا قادر شاہ) کہتے ہیں کہ سیب کھانے والا شخص کو کبھی ہسپتال نہیں جانا پڑتا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ دوسرے پھل دل کو سلام کرتے ہیں مگر سیب ایسا پھل ہے جسے دل خود سلام کرتی ہے۔ قلات میں سرخ وسفید اور ہلکی نارنجی رنگوں میں سیب کے ایک درجن سے زیادہ اقسام پیدا ہو نے کے ساتھ ساتھ انتہائی قوت بخش پھل ہے مگر سیب کے فصل سے منسلک زمین دار جو پورا سال محنت کرکے اس سیب کو اپنے خون پسینے ایک کرکے تیار کرتے ہیں، سیب کو مناسب مارکیٹ نہ ملنے پر شدیدمشکلات کا شکار ہیں۔

قلات میں سیب کے باغات ہزاروں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہو ئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کا زریعہ معاش سیب کی فصل سے وابستہ ہیں مگر ایران چائنا افغانستان اور دیگر ممالک سے سیب درآمد کر نے کی وجہ سے مقامی زمینداروں کی تیار فصل کو مارکیٹ نہ ملنے سے مقامی سیب کو مارکیٹ نہیں ملتی جس سے زمینداروں اور ٹھیکداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھا ناپڑ رہا ہے ہیں زمینداروں کا کہنا ہیکہ ہم پوارا سال محنت کرتے ہیں اور جب ہماری فصل تیار ہو جاتی ہیں تو عین اس وقت ایران افغانستان اور چائنا کی سیب ملک کے مارکیٹوں میں پہنچ جاتی ہیں اور ہماری سیب کوڑیوں کے داموں فروخت ہو تی ہیں جس سے بلوچستان کے زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے

قلات کا سیب پورے ایشیاء میں اپنی ذائقہ اور رنگت کی وجہ سے بہت مشہور ہےجب ہمارے علاقے کا سیب تیار ہوجاتا ہے عین اسی وقت حکومت ایران چائنا اور برازیل سےسیب کی درآمدگی شروع کردیتی ہے جس سے زمینداروں اور ٹھکیداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھا پڑتا۔حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ جب قلات اور بلوچستان کا سیب منڈی میں پہنچ جاتا ہے ہمسایہ ممالک سے سیب کی درآمدگی بند کریں۔

سیب کے سیزن میں سینکڑوں مزدور باغات میں کام کرتے ہیں یہ لوگوں کے روزی کمانے کا زریئعہ بھی ہے لیکن حکومتی عدم توجیی کے باعث یہ شعبہ تباہی کے دہانے پر پہن چکا ہے اگر حکومت زراعت کے شعبے کی ترقی پر توجہ دیں تو اس شعبے سے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔

کسی بھی ملکی ترقی میں زراعت کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں مگر بلوچستان میں وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ مشکلات کا شکار ہیں اگر مقامی زمینداروں کو مطلوبہ سہولتیں دی جائیں اور جب مقامی فصل تیار ہو جائے تو بیرون ملک سے سیب کی درآمد پر پابندی لگائی جائے تو یہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی  ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔