جے یو آئی(ف) کا دھرناختم،فضل الرحمان نے کارکنوں کو نیا ٹاسک سونپ دیا



اسلام آباد( 24نیوز )جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کو اگلے محاذ پر جانے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگلے پلان کا اعلان کیا جاچکا ہے، ہم نے اپنے باقی دوستوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم نے آج ہی یہاں سے روانہ ہونا ہے اور یہاں سے وہاں پہنچ کر باقی دوستوں کا ساتھ دینا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ حکومت اس گمان میں تھی کہ دھرنا ختم ہوگیا تو ان کے لئے بہتر ہوگا بلکہ اب احتجاج گلی گلی ہوگا,مولانا فضل الرحمان کااپنے کارکنوں سے کہناتھا کہ ہر محاذ پر آپ کے شانہ بشانہ ایک سپاہی کی طرح رہوں گا، یاد رکھو قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا، یاد رکھو آئین کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔

تصادم سے اپنے آپ کو بچانا ہے، ہم نے پر امن رہنا ہے کیونکہ پر امن جدو جہد جو مقاصد مہیا کرتی ہے وہ تشدد کی سیاست نہیں کرتی، آپ نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی جدو جہد کرنا جانتے ہیں، پلان بی پر عمل ہوگیا تو حکومت کیلئے سنبھلنا مشکل ہوجائے گا،کوئی مائی کالعل ان کوکرسی پربرقرارنہیں رکھ سکتا، تحریک نے نااہل حکمرانوں کی رٹ ختم کردی۔

انہوں نے شرکاء کو مزید کہا کہ وہ شہروں میں کسی راستے یا سڑک کو بلاک نہ کریں بلکہ شہروں سے باہر کی شاہرائیں پر جائیں،ہرسطح پرہمارے موقف کوتسلیم کیا گیااور ہرسطح پران کے موقف کومسترد کردیا گیاہے،یہ ہے فتح جوہمیں سیاسی میدان میں حاصل ہوئی، ہمارا بیانیہ غالب اوران کابیانیہ شکست کھاچکا ہے۔

مولانا شاہ اویس نورانی کا کہناتھا کہ 27 اکتوبر کا قافلہ آج بھی روان دوان ہے، میڈیا پر دیکھا کہ حکمران پلان بی سے گھبرا رہے ہیں، پلان سی اس سے بھی سخت ہے، حکومت میں بیٹھے افراد پرامن دھرنے سے خوف زدہ ہیں، آئینی دائرہ میں رہ کر احتجاج کرتے رہے ہیں،آئین اور ووٹ کی تکریم کے لیے سفر کاآغاز ہوا ہے۔

آزادی مارچ سے مولانا عبدالغفور حیدری نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ میں شرکت کرنے والے تمام رہنماؤں اور کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، 14 روز سے آزادی مارچ کے شرکاء پرامن احتجاج کر رہے ہیں، اپنے کارکنوں پر فخر ہے حکمران گھبراہٹ اور بوکھلاہٹکے شکار ہیں، ٹی وی پر حکمرانوں کے پاس گالیوں کے سوا کچھ نہیں، ہم بہت برداشت کیا، برداشت کی بھی حد ہوتی ہے ہم کہا کہ شرافت سے استعفیٰ دو حکمرانوں کی خواہش ہے کہ ان کو کرسیوں سے گھسیٹ کر اتارا جائے۔

 دوسری جانب کوئٹہ میں جے یو آئی (ف) اور پشتونخوا میپ کے مقامی قیادت کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، چمن شاہراہ کھول دی گئی، چمن شاہراہ کو دن گیارہ بجے بند کیا گیا تھا، بین الاقوامی شاہراہ 7 گھنٹے بند رہی، پلان بی کے تحت کل صبح دیگر علاقوں میں اہم قومی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔