ملک کو جمہوریت کے علاوہ کسی نظام کی ضرورت نہیں:چیف جسٹس


لاہور( 24نیوز ) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے کہا ہے کہ معاشرے میں استاد کا احترام ہونا چاہئیے،استاد معاشرے کا مقدس کردارہے۔

انہوں نے عاصمہ جہانگیر تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر ایک باہمت خاتون تھیں ان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے،وہ ایک بہترین استاد تھیں،انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی تھی،پہلا ازخود نوٹس ان کے کہنے پر ہی لیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ انصاف کیلئے چوبیس گھنٹے حاضر ہیں ،سب کیلئے دروازے کھلے ہیں،ملک میں جمہوریت کے علاوہ کسی نظام کی ضرورت نہیں،جمہوریت آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہوتی ہے۔

  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انصاف میں تاخیر کی ایک وجہ عدلیہ کی نااہلی بھی ہے لہذا ہ کم کیسزنمٹانے والے ججوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

 لاہور میں سپریم کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے لاہورہائیکورٹ کی کارکردگی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ کم کیسزنمٹانے والے ججوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی،لوگوں کوانصاف نہیں مل رہا،ملک میں بنیادی حقوق محفوظ نہیں، بابارحمتےکاکردارایک منصف کاکردار ہے، جن معاملات کا نوٹس لیا ان کاحل نہیں ملا،نوٹس کامقصدانتظامیہ کواحساس دلاناتھا،قوانین میں ترامیم اور جدیدذرائع سےاستفادہ کرناہوگا، لاپتہ افرادکیلئےاداروں سےبات کی ہے۔