اساتذہ کو ہتھکڑیاں کس نے لگائیں؟پتا چل گیا


پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کی ہتھکڑی میں احتساب عدالت پیشی کی اندرونی کہانی منظرِعام پر آگئی۔ عدالت میں اساتذہ کو نیب نے نہیں پولیس والوں نے ہتھکڑی لگوائی۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ذمہ داری پنجاب پولیس کے جوڈیشل گارڈز کی تھی. نیب کا کوئی افسر اس انداز میں ملزمان کو احتساب عدالت پیش کرنے کا مجاز نہیں۔

ذرائع نے کہاکہ احتساب عدالت میں ملزمان کی پیشی پنجاب پولیس نے کی۔ نیب پراسیکیوٹرز ملزمان کے خلاف شواہد پیش کرنیکے مجاز ہوتے ہیں۔چیئرمین نیب کیجانب سے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق عوامی ہجوم اور سکیورٹی حالات کے پیش نظر ملزمان کو ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا۔

ذرائع سے حاصل ہونیوالی پیشی کی تمام ویڈیوز میں نیب کا کوئی اہلکار موقع پر موجود نہیں۔ اس حوالے سے مزید انکشافات جلد متوقع ہیں۔ چیف جسٹس کے نوٹس لیئے جانے کے بعد ڈی جی نیب نے اساتذہ سے معافی مانگ لی ہے۔

 یاد رہےنیب نے سخت سکیورٹی حصار میں ہتکھڑیاں لگا کر پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر  مجاہد کامران  سمیت  6 سابق رجسٹرار ڈاکٹراورنگ زیب، زیب عالمگیر ڈاکٹر لیاقت، راس، مسعود، امین، اطہر کو  احتساب عدالت  کے روبرو پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ ان ملزمان کو گزشتہ روز غبن اور غیرقانونی بھرتیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا، نیب نے استدعا کی کہ تحقیقات کیلئے ان ملزمان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔