بیگم کلثوم نواز کو سپرد خاک کر دیا گیا


لاہور (  24نیوز  )سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم  نواز کیجاتی امرا رائیونڈ میں تدفین کر دی گئی، نماز جنازہ معروف سکالر مولانا طارق جمیل نے پڑھائی۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم  نواز کو جاتی امرا رائیونڈمیں سپردخاک کر دیا گیا، بیگم کلثوم نواز کو میاں شریف کے پہلو میں دفنایا گیا۔ تدفین کے وقت شریف فیملی اور لیگی قیادت موجود تھی، تدفین کے بعد مولانا طارق جمیل نےدعا کرائی۔ اس سے قبل نمازِجنازہ میں اے این پی رہنما غلام احمد بلور،امیر حیدر ہوتی،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی،خورشید شاہ،قمر زمان کائرہ،امیر مقام،مشاہد حسین سید،وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار حیدر فاروق،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان،گورنر پنجاب چودھری محمد سرور،صوبائی وزراءفیاض الحسن چوہان،محمود الرشید،سردار ایاز صادق،رانا مبشر،جاوید ہاشمی،جمشید دستی،راجہ پرویز اشرف،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرسمیت ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف خود گاڑی چلا کر جناز گاہ میں آئے،شریف خاندان کے خواتین نے جاتی امراءمیں میت کا آخری دیدار کیا،آخری دیدار کے وقت رقت آمیز مناظر تھے،خواتین نے نم آنکھوں کے ساتھ میت کو جاتی امراءسے روانہ کیا۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف بیگم کلثوم نواز کی میت کولندن سے لاہور لائے،ایئرپورٹ پر حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور خاندان کے دیگر افراد نے میت وصول کی جس کے بعد اسے شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا گیا جہاں نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد نے مرحومہ کا آخری دیدار کیا۔
سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے اہل خانہ، نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے اہلخانہ، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری اور برجیس طاہر سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات لاہور پہنچیں،کلثوم نواز کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز پاکستان نہیں آئے۔

اہم شخصیات نماز جنازہ میں شریک ہوں گی

چیئرمین سینیٹ، گورنر پنجاب سمیت اہم شخصیات کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گی، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے وفود بھی تعزیت کیلئے پہنچیں گے۔مسلم لیگ ق کا وفد بھی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے جاتی امراءپہنچ گیا،ق لیگ کے وفد میں چودھری شجاعت حسین،چودھری پرویز الٰہی ودیگر شامل ہیں۔

                                                                                                                                              نماز جنازہ مولانا طارق جمیل پڑھائیں گے
گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر مشتمل پی ٹی آئی کا وفد آج تعزیت کیلئے جاتی امراجائے گا۔ وفد میں صوبائی وزرا، اسلم اقبال اور محمودالرشید اور سپیکر قومی اسمبلی بھی شامل ہونگے۔ وفد نماز جنازہ میں بھی شرکت کرے گا اور میاں نوازشریف سے اظہار تعزیت کرے گا۔


تعزیت کرنیوالوں کا تانتا

غم زدہ شریف خاندان سے اظہار تعزیت کے لیے ملک بھرسےسیاسی و مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کی جاتی امرا آمد کا سلسلہ جاری رہا-مولانا فضل الرحمٰن، لیاقت بلوچ،فریدپراچہ اوروزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدرنےبھی نواز شریف سے ملاقات کی اور کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔سعودی سفیر نواز سعید المالکی بھی سابق وزیراعظم سےاظہارافسوس کے لیے جاتی امراپہنچےجبکہ ترک صدرطیب اردوان نےٹیلیفون پرنوازشریف سےگہرے رنج وغم کااظہارکیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے بھی بیگم کلثوم نوازکی وفات پراظہارِتعزیت کیا۔


سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری،سائرہ افضل تارڑ ،اسفندیارولی،آفتاب شیرپاؤ،مولاناطارق جمیل اورسابق صدرممنون حسین نے بھی نوازشریف سے مل کر ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت کی۔حریت رہنما یسٰین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی نوازشریف سے تعزیت کےلیے جاتی امراپہنچیں۔ انہوں نے نوازشریف سے یسیٰن ملک کی بات بھی کرائی۔


دوسری جانب مریم نواز سےملاقات نہ ہونے پرکئی لیگی ورکرزخواتین ناراض ہوگئیں۔خواتین ورکرز کا کہناتھاصبح سے قطار میں لگی ہوئی ہیں مگرانہیں اپنی لیڈرسےاظہارافسوس کے لیےملنے نہیں دیاجارہا۔خواتین کےاحتجاج کےبعدمریم نواز تعزیت کے لیے آنے والی خواتین سے باہرآکرملیں۔لیگی خواتین کارکن نے ان سے والدہ کی وفات پرتعزیت کی۔مریم نوازتقریبا ایک گھنٹے تک خواتین کے پنڈال میں موجودرہیں۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نےخودشریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں نمازِ جنازہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔نواز شریف نے ہدایت کی کہ نماز جنازہ کے تمام انتظامات ٹھیک ہونے چاہئیں اورکسی کوجنازہ گاہ میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے

بیگم کلثوم نواز کی لندن میں نماز جنازہ ادا کردی گئی

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی لندن میں نماز جنازہ ادا کردی گئی۔لندن کے ریجنٹ پارک کی مسجد میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں مرحومہ کے بیٹوںحسن نواز،حسین نواز، اسحاق ڈار کی فیملی اور دیگر احباب نے بھی شرکت کی،قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی شہباز شریف ،سابق وزیر داخلہ چوھری نثار،پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام نے بھی شرکت کی، نماز جنازہ کی امامت خلیفہ شیخ عزت نے کی۔
مرحومہ کی میت پاکستان لانے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں،آج رات میت کو لندن سے روانہ کیا جائے گا اور کل صبح لاہور ائیر پورٹ پر پہنچے گی،شہباز شریف،حسن،حسین کے بچے،اسما نواز اور دیگر خاندان کے افراد بھی ساتھ ہونگے۔

ویڈیو دیکھیں:

بیگم کلثوم نواز کی میت کل لاہور پہنچے گی

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی میت آج لندن سے روانہ کی جائے گی جو کل صبح لاہور پہنچے گی۔
بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ آج لندن میں ادا کی جائے گی،اسلامک سنٹر کی مسجد میں ادا کی جانیوالی نماز جنازہ میں شہباز شریف،حسن ،حسین نواز اور ان کی فیملیز شریک ہونگی، نماز جنازہ لندن کی ریجنٹ پارک مسجد میں بعد نمازِ ظہر ادا کی جائے گی،نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف، ان کی چھوٹی صاحبزادی اسما اور صاحبزادے حسین نواز کے 2 بیٹوں سمیت خاندان کے دیگر افراد میت کے ساتھ آئیں گے۔
واضح رہے کہ کلثوم نواز کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز پاکستان نہیں آئیں گے،پاکستانی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بجے ہیتھرو ایئرپورٹ سے کلثوم نواز کی میت پی آئی اے کی پرواز سے لاہور روانہ کی جائے گی۔

                                                                                                                                                         مریم نواز والدہ کی وفات پر غم سے نڈھال


خیال رہے جاتی امرا ءرائیونڈ میاں نوازشریف کی رہائش گاہ اور یہیں پر ایک چھوٹا سا قبرستان جس میں دو قبریں میاں نوازشریف کے والد میاں شریف مرحوم اور میاں عباس شریف مرحوم کی ہیں اور اب اس چھوٹے سے قبرستان میں بیگم کلثوم نواز   کی ایک اور قبر میں اضافہ ہورہا ہے۔


تین دفعہ خاتون اوّل رہنے والی بیگم کلثوم نواز کو جاتی امرا ءرائیونڈ میں ہی سپرد خاک کیا جائے گا جبکہ ان کی نماز جنازہ کے انتظامات کے سلسلہ میں سلمان شہبازشریف، صدرمسلم لیگ ن لاہور پرویزملک خواجہ عمران نذیر، علی پرویزملک چودھری شہباز احمد مہر اشتیاق احمد عطااللہ تارڑ، ڈپٹی کمشنر لاہور اور آئی جی سیکیورٹی نے جاتی عمرہ کادورہ کیا اور انتظامات کاجائزہ لیا۔
یاد رہے بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل پڑھائیں گے،ملک بھر سے ن لیگی کارکنوں ،رہنماﺅں سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین کی شرکت بھی امکان ہے۔