افغانستان:مذاکرات کی منسوخی کےبعد جھڑپوں میں شدت آگئی

افغانستان:مذاکرات کی منسوخی کےبعد جھڑپوں میں شدت آگئی


کابل(24 نیوز) طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد افغانستان میں جھڑپوں اور لڑائی کے واقعات میں شدت آگئی ، افغانستان کے شمالی علاقوں میں جھڑپوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور لڑائیاں دوبارہ زور پکڑنا شروع ہو گئیں۔

افغان حکام کے مطابق افغانستان کے کم از کم 10 صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جب کہ شمالی علاقوں میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ تخار، بغلان، قندوز اور بدخشاں میں شدید جھڑپوں کے بعد طالبان چند ہفتوں سے حکومتی فورسز کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

افغانستان کی وزارتِ دفاع نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے افغان صوبے بدخشاں کے ایک ضلع سے طالبان کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔ یہ علاقہ جولائی میں طالبان کے قبضے میں چلا گیا تھا،یہ بدخشاں صوبے کا تیسرا ضلع کورن وا مونجن ہے جو سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر طالبان کے قبضے سے آزاد کرایا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق اس سے قبل گزشتہ دنوں یمغان اور وردوج نامی دو اضلاع کو بھی طالبان کے قبضے سے چھڑانے کا دعویٰ کیا گیا تھا جو طالبان کے قبضے میں گزشتہ چار سال سے تھا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer