بلوچستان میں اعلیٰ پولیس افسروں کی کمی کامسئلہ حل نہ ہوسکا

بلوچستان میں اعلیٰ پولیس افسروں کی کمی کامسئلہ حل نہ ہوسکا


کوئٹہ (24نیوز) وفاقی اوربلوچستان حکومت کی کوششیں بھی بےسود رہیں۔ سپریم کورٹ کےاحکامات اورمراعات میں خاطر خواہ اضافے کے باوجود بلوچستان میں اعلیٰ پولیس افسروں کی کمی کامسئلہ حل نہ ہوسکا۔

اسلام آباد،پنجاب اورسندھ کی پرکشش تعیناتیاں چھوڑکربلوچستان جانا اعلی پولیس افسروں کےلیےہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے۔ بلوچستان میں تعیناتی کےلیےمراعات میں اضافہ اور دوہزاربارہ میں سپریم کورٹ کے احکامات بھی بلوچستان میں پولیس افسروں کی تعیناتی کےمعاملے کوحل نہ کرسکے۔

انتخابات2018کےموقع پربھی وفاق کے16افسروں نےبلوچستان میں تعیناتی کوقبول نہیں کیا تھا۔ پنجاب سےاظہر اکرم،عاطف اکرام،ڈاکٹر عابد خان،کامران یوسف ملک،اکبر ناصر خان،خرم شہزاد حیدر،احسن یونس کو بلوچستان بھیجنے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کامیاب نہ ہو سکی۔سندھ سے پرویزخان عمرانی،فدا حسین مستوئی، ایف آئی اے سے کیپٹن(ر)محمد شعیب،ڈاکٹر مظہر الحق کاکاخیل،یاسین فاروق بھی وفاق کے فیصلے کےباوجودعام انتخابات میں فرائض سر انجام دینے بلوچستان نہ گئے۔

ڈاکٹرمظہرشیخ،محمدرضوان،عمران احمر،فرنٹئیر کانسٹیبلری(ایف سی ) سے احمد جمال الرحمان، اورصوبہ خیبر پختونخواسےوقارالدین سید کوبلوچستان بھیجنےکی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ بعدازاں مذکورہ افسروں کواسلام آباد،پنجاب اورسندھ میں ہی پرکشش عہدوں پرتعینات کردیا گیا۔

رواں ماہ آئی جی بلوچستان نےایک بارپھراسٹبلشمنٹ ڈویژن سے افسروں کی کمی پوری کرنےکےلئےرابطہ کیاہے،بلوچستان میں اس وقت گریڈ 17سے21 کی 50 سے زائد پوسٹیں پولیس افسروں کی منتظرہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔