امریکہ کاشام پر حملہ، برطانیہ و فرانس کی حمایت، محرکات کیا تھے؟

امریکہ کاشام پر حملہ، برطانیہ و فرانس کی حمایت، محرکات کیا تھے؟


24نیوز: امریکا نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام پر حملوں کا آغاز کردیا ہے۔ شامی حکام کی جانب سے  حملوں کی تصدیق کردی گئی ہے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ شام کے صدر بشارالاسد کے احکامات پر شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کیا گیا۔

ان احکامات کے بعد شام کے دارلحکومت دمشق میں زوردار دھماکوں کی آوازیں گھونجنے لگیں۔ امریکا کی جانب سے بحری بیڑے سے طیارے اور بحیرہ روم سے کروز میزائل داغے گئے ہیں۔اس حوالے سے پینٹاگون حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے میں کیمیائی ہتھیار بنانے والے اہم پروگرام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب شامی مسلح افواج کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ شامی ڈیفنس سسٹم نے متعدع میزائلوں کو ناکام بنا دیا ہے، لیکن کچھ میزائل نے بزارہ میں ریسرچ سنٹر سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت کیخلاف کارروائی ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتی، ہم شام میں دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سرگرم رہیں گئے۔ 

یہ بھی ضرور پڑھیں: شام میں قیامت سے پہلے قیامت

امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام میں امریکی فوجی ایکشن جاری ہے۔ شام میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملہ برطانیہ اورفرانس کےساتھ مل کر کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیمیائی حملوں پرشامی حکومت اور اس کے روسی اورایرانی اتحادیوں کا احتساب کریں گے۔ انہوں نےکہا کہ بشارا الاسد کے مستقبل کا فیصلہ شام کے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خبردار!شام میں ایک بار پھر صف ماتم بچھے گی

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنی فوج کو شام میں حملے کی اجازت دے دی ہے۔ تھریسا مے کا کہنا ہے کہ شام پر حملوں کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی ہے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہفتے کو جی ایم ٹی دوپہر تین بجے ہو گا۔ یہ اجلاس روس کی درخواست پر بلایا گیا ہے۔روس نے یہ اجلاس اس وقت بلایا ہے. جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام میں ایک سو سے زیادہ میزائل گرائے  گئے ہیں۔

امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا بیان

 علاوہ ازیں امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی اطلاعات نہیں آئی کہ امریکا کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کا مقصد بشار الاسد کو مزید کیمائی ہتھیاروں کو بنانے اور اسکے استعال سے روکنے کیلئے ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع نے کہا تھا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حکام کی جانب سے ہدف کی نشاندہی کی گئی تھی اور اس میں عام شہریوں کی کم سے کم اموات کی کوشش کی جائے گی۔

 یہ بھی ضرور پڑھیں: روس تیار رہو، امریکی میزائل آ رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

پینٹاگون میں جیمز میٹس، برطانوی اور فرانسیسی فوجی افسران نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں مغربی شام کے 3 خاص حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دمشق میں پہلا ہدف سائنسی ریسرچ سینٹر، دوسرا ہدف حمص کے مغرب میں کیمیائی ہتھیاروں کا گودام اور تیسرا ہدف کمیائی ہتھیاروں کے سامان کو رکھنے کی جگہ فراہم کرنے والے ایک خاص کمپاؤنڈ پوسٹ کو بنایا گیا۔

 برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کا بیان

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کا کہنا ہے ہماری جانب سے شامی صدر کو کیمیائی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے ہرممکن کوشش روکا گیا ہے۔ لیکن شام اور روس کی جانب سے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ حملے نہ تو خانہ جنگی میں مداخلت کے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد شامی حکومت کی تبدیلی ہے۔

  فرانسیسی صدر ایمانیول مائیکرون کا بیان

علاوہ ازیں فرانسیسی صدر ایمانیول مائیکرون نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں شامی حکومت کی کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیاہے۔ کیونکہ شامی حکومت مسلسل ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کر رہی تھی۔

خیال رہے کہ 7 اپریل کو شامی فورسز کی جانب سے دوما میں حملہ کیا گیا تھا۔ جس میں بچوں سمیت 40 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ مقامی سطح پر کام کرنے والے حکومت مخالف رضا کاروں کے مطابق یہ کیمیائی حملہ تھا۔

اس حملے کے بعد امریکا، فرانس سمیت یورپی اور عرب ممالک نے شام کی حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے دمشق کے قریب باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے دوما میں کیمیائی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں شام کے صدر بشارالسد کو ’ جانور‘ کہتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ انہیں اور ان کے اتحادی ایران اور روس کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

تاہم شامی فوج اور اس کے اتحادی نے کیمیائی حملوں کے دعووں کو مسترد کیا تھا اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے خبر داد کیا ہے کہ اس معاملے میں دخل اندازی برداشت نہیں کی جائے گی۔

بعد ازاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں امریکا اور روس، شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کسی قسم کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں ناکام ہوگئے۔

کونسل کے اجلاس میں، گزشتہ ہفتے شام کے علاقے ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے نتیجے میں 40 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کو روس نے ویٹو کردیا تھا۔

اس کے بعد امریکا کی جانب سے شام میں کیمائی ہتھیاروں کے استعمال میں شہریوں کی ہلاکت پر بڑے فیصلے کا عندیہ دیا گیا تھا اور کہا تھا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران اہم فیصلے سامنے آئیں گے کیونکہ یہ انسانیت کا معاملہ ہے اور میں اس طرح کی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حملہ کے پیچھے کیا محرکات تھے؟

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اقوام متحدہ سے اجازت لیے بغیر ہی شام پر حملہ کر دیا۔ ہر بار کی طرح شام پر حملہ میں بھی امریکہ اور اتحادیوں نے جلدی دکھائی۔ اقوام متحدہ کو بائی پاس کر کے شام پر میزائل داغ دیئے۔

عالمی انصاف کے ادارے نے تو ابھی جائزہ لینا تھا کہ واقعی شام میں کیمیائی ہتھیار ہیں بھی کہ نہیں۔ ہوسکتا ہے عالمی طاقت کو علم ہو کہ شام میں کیمیائی ہتھیار سرے سے موجود ہی نہیں۔

امریکہ کا بس ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح شام میں روسی ہتھیاروں کے ذخائر کو تباہ کیا جائے۔ ابھی تک یہ تفصیلات بھی سامنے نہیں آ سکیں کہ اس حملہ میں کتنی ہلاکتیں اور کتنی مقدار میں اسلحہ تباہ ہوا ۔

ٹوماہاک میزائل کا تاریخی پس منظر

امریکانے شام میں تازہ حملے میں ایک سو پانچ ٹوماہاک میزائل فائرکئے۔ تباہی مچانے والے ان میزائل کا تاریخی پس منظرکیا ہے۔ ٹوماہاک دراصل ایک قسم کی کلہاڑی کو کہتے ہیں۔ جسے امریکی باشندے ’ریڈ انڈین‘ استعمال کرتے تھے۔

جہاں تک بات ہے ٹوماہاک میزائل کی تو یہ اب تک دو ہزار بار مختلف جنگوں میں استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ان میزائلوں کا جدید ترین ورژن ٹوماہاک بلاک 4 ہے جس میں دونوں طرف سیٹلائٹ لنک نصب ہیں۔ جس کی مدد سے اس کا ہدف پرواز کے دوران تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس میزائل کی خوبی ہے کہ سافٹ ویئر کی مدد سے یہ متحرک ہدف کو بھی ٹارگٹ کر سکتا ہے۔ ہرموسم اور دن رات داغے جانے والے میزائل کی ٹربو فین انجن کی مدد سے اڑان ہوتی ہے۔

پندرہ لاکھ ڈالر قیمت کا یہ میزائل 1600 کلو میٹر تک 880کی سپیڈ سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ امریکا نے یہ میزائل شام پر داغ کر 16کروڑ 29لاکھ ڈالر، بارود آگ اور خون کے لیے جھونک دیئے۔