سپریم کورٹ: چیف جسٹس، خواجہ سعد میں دلچسپ مکالمہ، ریلوے آڈٹ کا حکم


اسلام آباد (24نیوز) سپریم کورٹ میں ریلوے کے ساٹھ ارب روپے خسارہ پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پاکستان ریلویز کا مکمل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دوران دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ چیف جسٹس نے خواجہ سعدرفیق سے روسٹرم پر آنے کو کہا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ لوہے کے چنے ساتھ لیتے آئیں۔

یہ بھی پڑھئے:سیاست کے فیصلے پولنگ بوتھ پر ہوتے ہیں، عدالتوں میں نہیں، وزیراعظم 

خواجہ سعدرفیق نے وضاحت کی یہ بیان عدالت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مخالفین کے لیے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خسارہ کے ریکارڈ کے ساتھ تقریر کا ریکارڈ بھی منگوا لیتے ہیں سب سامنے آ جائے گا۔

24نیوز کے مطابق پاکستان ریلوے کو 60 ارب روپے خسارہ کے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے پاکستان ریلوے کا مکمل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا۔ جہاں چیف جسٹس اور وزیر ریلوے میں دلچسپ مکالمہ ہوا۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ خواجہ صاحب روسٹرم پر آئیں، لوہے کے چنے بھی لے آئیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کے لیے نہیں، سیاسی مخالفین کے لیے تھا۔ آپ کی تقریروں اور خسارہ کا ریکارڈ منگوا لیتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے یاد نہیں کیا، سمن جاری کیا تھا۔

پڑھنا نہ بھولئے: خواجہ سعد رفیق اداس ہو گئے 

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ وقت گئے جب عدالتوں کی بے حرمتی کی جاتی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے استدعا کی کہ مجھے بولنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک عدالت نہیں کہے گی، آپ چپ رہیں گے۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا تو کیا پھر میں بیٹھ جاؤں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہم نہ کہیں، آپ یہیں کھڑے رہیں گے۔ سعد رفیق نے کہا کہ عدالت مجھے سننا نہیں چاہتی تو میں چلا جاتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے چلے جائیں، ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ آپ جس نیت سے آئے ہیں، وہ ہم جانتے ہیں۔

مزید اس ویڈیو میں: