کیا عمران خان نا اہل ہونے جا رہے ہیں؟ فیصلہ کل ہوگا


اسلام آباد (24 نیوز) سپریم کورٹ عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ کل 2 بجے سنائے گی، عدالت عظمیٰ نے ایک سال تک حنیف عباسی کی درخواستوں پر 50 سماعتیں کیں اور 14 نومبر کو فیصلہ محفوظ کیا۔

پانامہ کے ہنگامے کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین کی تلاشی، سپریم کورٹ نے 1 سال اور سات دنوں میں 50 مرتبہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف دائر نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف آف شور کمپنیاں رکھنے اور ٹیکس چھپانے سے متعلق آئینی درخواستیں 2 نومبر 2016 کو لیگی رہنماء حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں دائر کیں، حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق بھی درخواست دائر کی تھی، سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم بنچ نے پہلی سماعت 7نومبر کو کی۔

سپریم کورٹ نے 15 نومبر کو دوسری عدالتی سماعت میں عمران خان اور جہانگیر ترین کو نوٹسز جاری کر کے تحریری جواب طلب کیا، 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے کیس پانامہ لارجر بنچ کیساتھ سننے کی استدعا مسترد کردی، عمران خان نے 30 نومبر کو سپریم کورٹ میں پہلا تحریری جواب داخل کروایا، انہوں نے سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 18 جوابات داخل کروائے، رواں سال 28 ستمبر کو عمران خان نے جمائمہ خان کے دو خطوط بطور ثبوت بھی پیش کیے، جمائمہ کے ان خطوط کو قطری خطوط سے مماثلت دی گئی۔

سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین سے متعدد بار ٹھیکے پر لی گئی 18 ہزار سے زائد زرعی زمین سے متعلق محکمہ مال کا ریکارڈ پیش کرنے کو کہا لیکن وہ ناکام رہے، اہم نوعیت کے اس کیس میں عمران خان کی جانب سے نعیم بخاری، جہانگیر ترین کی جانب سے سکندر بشیر مہمند اور پی ٹی آئی کی جانب سے انور منصور نے دلائل دیئے، جبکہ درخواست گزار حنیف عباسی کی نمائندگی اکرم شیخ نے کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے 14 نومبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا، جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب بھی بنچ کا حصہ تھے۔