”پنجاب حکومت میں نیت اورقابلیت دونوں نہیں“

”پنجاب حکومت میں نیت اورقابلیت دونوں نہیں“


اسلام آباد( 24نیوز ) پنجاب حکومت میں نیت اورقابلیت دونوں نہیں،پانی سونے سے بھی قیمتی ہوچکا،کچھ بولے تو خبر لگے گی کہ حکومت کی اہلیت پرسوال اٹھارہے ہیں،عدالت نے صوبوں کے اقدامات پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے وفاق اورصوبوں سے شق وار جواب طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ میں پانی کی قیمتوں کے تعین اور استعمال سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی نایاب ہورہا ہے،قیمت کا کیا بنا؟کیا وفاق اور صوبوں نے میکنزم بنایا؟،سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن نے بتایا کہ جو تجاویز دیں ان پر عملدرآمد ہوا نہ آگاہی مہم چلی،نمائندہ آبپاشی نے کہا کہ پنجاب حکومت نے 38 میں سے 31 تجاویز منظور کی ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ واٹرکمیشن نے بہت کام کیا،حکومت کوسب کچھ کرکے دیا جاتا ہے،نیت ہی نہیں کہ کام کیا جائے،لگتا ہے آپ لوگوں نے پیاسا مار دینا ہے،ہربات پر بیورکریٹک رکاوٹیں سامنے آتی ہے،لگتا ہے سارے کاغذ سپریم کورٹ کے ریکارڈ روم میں پڑے رہ جائیں گے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ کوئٹہ سے لوگ ہجرت کررہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی 1200 فٹ پر چلا گیا،گوادر میں پینے کا پانی دستیاب نہیں،بار بار کہا ہے کہ جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ ٹینکر مافیا مفت کا پانی بیچ رہا ہے،سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن بولے اس سے متعلق کوئی حکم جاری کریں،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت حکم جاری کرتی رہے گی لیکن حکومت کو احساس نہیں۔لوگوں کی زندگی پانی سے جڑی ہے،اگرحکومت نے کچھ نہ کیا تومجرمانہ غفلت ہوگی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ بوتل کے پانی کے علاوہ دیگر صنعتوں کے پانی کے استعمال کی بھی قیمت کا تعین ہونا چاہیے، پنجاب حکومت نے منصوبہ بہت اعلیٰ بنایا لیکن کاغذوں میں۔معاملے پر سیاسی ارادہ نظر نہیں آرہا ہے،میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے،عدالت نے جمع شدہ جواب کو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 15 دنوں میں شق وار جواب دیں۔