منشیات کابڑھتاہوارجحان اورہماری معاشرتی ذمہ داریاں

منشیات کابڑھتاہوارجحان اورہماری معاشرتی ذمہ داریاں


کچھ دن پہلے وفاقی حکومت کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کا رجحان بڑھتا جارہا ہے جو شائد وفاقی حکومت کے لیے نئی بات ہے لیکن معاشرہ کے لیے نئی نہیں ۔ اب اگر وفاقی حکومت کی جانب سے خود اس کا انکشاف کیا گیا ہے تو یقینی اس تدارک کے لیے حکومت کچھ نہ کچھ ضرور کر رہی ہو گی لیکن حیران کن بات تو یہ ہے کہ صاحبانِ اقتدارکو اب پتہ چلا ہے، جبکہ نوجوان نسل میں منشات کا رحجان اب سے نہیں بلکہ ایک سروے رپورٹ اور مشاہدہ کے مطابق منشیات کارجحان گزشتہ پانچ سال سے بہت زیادہ ہو چکا ہے ۔

جہاں تک بات ہے تعلیمی اداروں میں نشہ آور اشیاء کے استعمال کی تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔گزشتہ کئی دہاہوں سے تعلیمی اداروں میں نشہ اور اشیاء کا استعمال کیا جا رہا ہے ،ہاں البتہ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کا شمار اب ان ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک ہونے لگا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے واضع کر لیا جائے کہ منشیات ہےکیااور کون کونسی اشیاء خطرناک منشیات میں شمار ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق شراب اور چرس وہ نشہ ہے جو اس حد تک نقصان نہیں پہنچتا جس حد تک ہیروئین اورکوکین کا نقصان ہوتاہے۔ جبکہ ان دنوں پاکستان میں آئس کا استعمال بھی کیا جانے لگا ہے ۔ آئس وہ نشہ ہے جو کہ تیسری دنیاکےممالک میں تقریبا 30 سے 40 سال پہلے سے کیا جا رہا ہے اور تقریبا پانچ سول سے پاکستان میں اس کا استعمال حد سے زیادہ ہونے لگا ہے، جس میں زیادہ تر نوجوان ہیں جو کہ اس نشہ کا استعمال کر رہے ہیں ۔

چند ماہ قبل تک تو پولیس اہلکاروں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اگر کسی کے پاس سے بھاری مقدار میں آئس برآمد ہو جائے تو اس پر مقدمہ کن دفعات کے تحت درج کرنا ہے اور اب بھی اس کو باقاعدہ ڈرگ ایکٹ میں شامل نہیں کیا گیا اور اس کی قانون کے مطابق کوئی سزا مقررہ نہیں۔ بس پولیس اہلکار کی مرضی ہے ،وہ آئس برآمد ہونے والے پر 9 سی کا مقدمہ درج کر دے یا پھر شراب فروخت کرنے کا ۔ میرے ذاتی مشاہدہ کے مطابق آئس پاکستان میں زیادہ تر افعانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہی ہے اور اسلام آباد کے بعد لاہور وہ شہر ہے جہاں آئس کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے ۔

اس طرح ڈانس پارٹی میں استعمال ہونے والی گولی بھی بظاہر ایک گولی ہے جس کو ابھی تک ڈرگ ایکٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا اور اسمبلی میں بحث کے بعداس کی روک تھام اوراس کو فروخت کرنیوالے پر کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کرناہے، اس کی سزا کیا ہونی چاہیے ،کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جبکہ اس گولی کے استعمال سے اب تک لاہور سمیت متعدد شہروں میں کئی اموات ہو چکی ہیں ۔ ماہرین انسدادِ منشیات کے مطابق وقت کی ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو آگاہ کیا جائے کہ کونسا نشہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

لیکن دوسری جانب سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں کہ جب میرے شہر لاہور میں آئس آ رہی تھی تو اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارےکہاں تھے؟ اے این ایف کے افسران گزشتہ کئی سالوں سے آئس کا راستہ روکنے کیلئے سرحدی علاقوں میں کارروائی کر رہے ہیں، لیکن کیا صرف یہ کام ایک ہی ادارے کا ہے؟ باقی سب اداوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔

کوکین کے بارے میں الزام لگایاجاتا ہے کہ یہ امیر لوگوں کا نشہ ہے،کوئی ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں اور لڑکے اس نشہ کے عادی ہیں اور اب تو بعص حلقوں کی جانب سے یہ بھی الزام عائد کئے جاتے ہیں کہ کوکین کا استعمال اسلام آباد کے ایک خاص علاقہ میں بھی ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے ۔ میں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ کونسی شخصیات کونسا نشہ کرتی ہیں، یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قیمتی نشہ ایلیٹ کلاس میں کیا جاتا ہے, سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم کسی کو طاقت کے زور پر نشہ کرنے سے روک سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق ایساممکن نہیں، نشہ وہ بری چیز ہے جس کو جس ملک میں بھی طاقت کےزور پر روکاگیا ، وہاں یہ اورزیادہ ہوگیا ہے ۔ برطانیہ، امریکہ ، روس، سنگاپور، سمیت کئی ایسے ممالک ہیں جو چاہ کر بھی اپنے ممالک کو مکمل طور پر نشہ سے پاک نہ کر سکے۔ ان حالات میں وقت کی ضرورت ہے کہ ہم نوجوان نسل کی مناسب تربیت کریں ۔ انہیں دین اسلام کی طرح راغب کیا جائے کہ ہر مومن اسلامی روایات کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ ہماری نئی نسل میں ڈپریشن کو ختم کیا جائے ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے ، امیر اور غریب میں فرق ختم کیا جائے ، ایک سفید پوش کو زندگی گزرنے کی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو ایک امیر کوحاصل ہیں، نوجوان نسل کو تفریح کے مواقع فراہم کئے جائیں ، اِن ڈور سرگرمیوں کے بجائے کھیل کے میدان آباد کئے جائیں۔

جس دن ہماری مساجد آباد ہونا شروع ہو گئیں جیسے ایک اسلامی ریاست میں ہونا چاہیے، ہمیں نشہ کا استعمال روکنے کے لیے کسی طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر اس ملک سے منشیات کےاستعمال کو ختم کرنا ہے تو اس ملک کو انتخابی نعرے کی حد نہیں بلکہ عملی طورپرحقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہو گا ۔نہیں تو بڑھتی ہوئی ڈپریشن اور غربت میں منشیات کے استعمال کو روکنابس دیوانےکا خواب ہی ہو سکتا ہے ۔