عام انتخابات،تشہیری مہم محدود ہونے سے پرنٹنگ کاروبار کا نقصان

عام انتخابات،تشہیری مہم محدود ہونے سے پرنٹنگ کاروبار کا نقصان


حیدر آباد( 24نیوز ) الیکشن کمیشن کی جانب سے تشہیری مہم محدود ہونے سے حیدرآباد کے پرنٹنگ پریس مالکان کے کاروبار چمکانے کے خواب ٹوٹ گئے، بڑے آرڈر نہ ملنے پر پرنٹنگ پریس کا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔

تشہیری مہم کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق سے جہاں امیدواروں کو دھچکا لگا، وہیں پرنٹنگ پریس مالکان کے ارمانوں پر بھی اوس پڑ گئی۔ الیکشن سیزن میں بھاری منافع کمانے کے سب خواب ٹوٹ گئے۔

بڑے پوسٹرز پر پابندی کے بعد پرنٹنگ پریس میں صرف چھوٹے سائز کے پوسٹرز اور پمفلیٹ کی چھپائی ہورہی ہے جس سے پرنٹنگ پریس مالکان کا منافع کم اور وہ شدید نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

ضرور پڑھیں:کھراسچ، 18 جون 2019

ہر الیکشن کی طرح اس مرتبہ پابندی کی وجہ سے بہت کم کام ہے بڑے پینافلیکس اور پوسٹرز نہیں چھپ رہے چھوٹے پوسٹرز کا پروفٹ بھی کم ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایسا کردیا ہے نہ کمانے دیا ہے نہ کھانے دیا ہے الیکشن کمیشن نے جو سائز نکالے ہیں اس کا پرنٹنگ پریس پر بہت اثر پڑا ہے۔

پچھلے الیکشن سیزن میں لاکھوں روپے کمانے والے پرنٹنگ پریس مالکان کی مشینیں اس مرتبہ ٹھنڈی ہیں، مالکان اور کاریگر سیزن میں بھی زیادہ پرافٹ نہ ملنے پر الیکشن کمیشن سے ناراض ہیں۔