چیف جسٹس کا اسلام آباد میں کریک ڈاﺅن کا حکم

چیف جسٹس کا اسلام آباد میں کریک ڈاﺅن کا حکم


اسلام آباد(24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان اہم نوعیت کے مقدمات کو انتہائی تیزی سے نمٹا رہے ہیں، سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر کئی مقدمات کی سماعت ہورہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد از خود نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس کہتے ہیں بچوں کو ٹیکا لگا کر سارا دن سڑکوں پر بٹھا دیا جاتا ہے، سپریم کورٹ میں طیبہ تشدد از خود نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس نے بچوں سے جبری مشقت کا نوٹس لے لیا، چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سڑکوں پربیٹھنے والا بچہ کیسا شہری بنے گا اسلام آباد میں پیر ودھائی اور سبزی منڈی کے علاقوں میں دیکھ لیں کیا کچھ ہو رہا ہے، چیف جسٹس نے ایک ہفتے میں رپورٹ مانگ لی۔
زمرد خان نے کہا اصل مسلہ لا وارث بچوں کا ہے ،یتیم بچوں کیبرجسٹریشن کا ایکٹ ہونا چاہیے. جس پر چیف جسٹس نے کہا اگر آپ نے یتیم بچوں کی رجسٹریشن سے کے حوالے سے قانون سازی کا ڈرافٹ کیا ہے تو ہمیں دیں،قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے. چیف جسٹس نے کہا معصوم بچے کو ٹیکا لگا کر اور افیم کھلا کر اسے بیمار ظاہر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے۔۔۔۔۔۔۔چیئرمین سینیٹ انتخاب،راجہ کو ووٹ نہ دینے والے بے نقاب
سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی حد تک بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کا حکم دے دیا. چیف جسٹس کہتے ہیں ایڈوکیٹ جنرل بھیک مانگنے کے پوائنٹس کو ختم کریں اور جبری مشقت کو بھی ختم کروا کر رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
چیف جسٹس نے بچوں کے ساتھ ظلم کرنے والے مافیا کیخلاف کریک ڈاون کریں ،، سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی حد تک بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے رپورٹ طلب کر لی ۔