پاک بھارت مذاکرات اعلامیہ جاری



لاہور(24نیوز)وزارت خارجہ کاوفدکرتارپور راہداری پرمذاکرات کے واپس واہگہ بارڈرپہنچ گیا، ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ کچھ باتوں پرابھی بھی اختلافات موجودہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی سربراہی میں کرتاپور راہداری پرمذاکرات کے لئے جانے والا 18رکنی وفد واپس پہنچ گیا، ترجمان دفتر خارجہ  کاکہناتھاکہ بہت مثبت بات چیت ہوئی،دونوں ملکوں میں تعمیری اورمثبت مذاکرات ہوئے تاہم کچھ مسائل ہیں جس کاذکربعدمیں کیاجائےگا،مذاکرات کادوسرادور2اپریل کو دوسری ملاقات واہگہ بارڈر پر ہوگی،ہوگا،مشترکہ اعلامیہ کاجاری ہونا اہم سنگ مل ہے۔

ان کاکہناتھاکہ دونوں ممالک میں سکھ یاتریوں کی گوردوارہ کرتارپور صاحب میں ویزا فری رسائی کے حوالے سے مذاکرات بھی ہوئے،کچھ باتوں پرابھی بھی اختلافات موجودہیں امید کرتے ہیں جلد دور ہوجائیں گے، بھارتی وفد کی قیادت جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کی۔

قبل ازیں 18رکنی وفدڈاکٹر فیصل کی سربراہی میں براستہ واہگہ بارڈربھارت پہنچا، بھارت روانگی سے قبل واہگہ بارڈر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرفیصل کاکہناتھا کہ پاکستان نے کرتارپور کھولنے کا فیصلہ کیا،مذاکرات میں مثبت پیغام لے کرجا رہے ہیں اورکرتارپور راہداری سے متعلق بات چیت ہوگی،ان کاکہناتھاکہ محبت کا ایک ایساشجر اپنے آنگن میں لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں سایہ جائے.

اس راہداری سے نا صرف سکھ برادری کو سہولت ملے گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان امن بھی ہوگا، کرتارپور راہداری پر اجلاس وزیراعظم کے ویژن کا عکاس ہے، خطے میں امن کی خاطر مثبت پیغام لے کر آج میٹنگ کیلئے جا رہے ہیں،رات کے بعد پاکستانی وفد واہگہ بارڈر پر کرتار پور بارڈ کے حوالے سے جو بھی مذاکرات ہوں گےان سے آگاہ کرے گا۔

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کامزید کہناتھاکہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے،وزیر اعظم نے 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کی بنیاد رکھی، آج 18 رکنی وفد مذاکرات کے لیے بھارت روانہ ہورہا ہے، خطے میں امن کی خاطر آج پہلی اجلاس کے لیے جا رہے ہیں۔