میاں نوازشریف کے علاج کی اصل حقیقت سامنے آگئی

میاں نوازشریف کے علاج کی اصل حقیقت سامنے آگئی


لاہور(24نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں کارڈیک یونٹ قائم کرکے علاج دینے کے حکومتی بلند و بانگ دعوے کی قلعی کھل گئی۔ ایمبولینس کے ساتھ کسی ماہر امراض قلب کو ڈیوٹی پر مامور ہی نہ کیا گیا۔

کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کیلئے کارڈیک یونٹ قائم کرنے کے دعوے کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔ میاں نواز شریف کے اسپتال میں داخل ہوکر عارضہ قلب کے علاج سے انکار پر صوبائی حکومت کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں ایک ایمبولینس اور ڈاکٹرز تعینات کرکے کارڈیک یونٹ کے قیام کا دعوی کیا گیا، تاہم حکومت کا یہ دعویٰ صرف دعویٰ ہی نکلا۔

انکشاف ہوا ہے کہ جیل میں جن ڈاکٹرز کو آٹھ آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں ڈیوٹی پر مامور کیا جارہا ہے وہ زیر تربیت پوسٹ گریجوایٹ ڈاکٹرز ہیں اور کسی بھی ماہر امراض قلب کو کوٹ لکھپت جیل میں ایمبولینس کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور ہی نہیں کیا گیا، گزشتہ چھے روز کے دوران جن ڈاکٹرز کو کوٹ لکھپت جیل میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا وہ تمام پی جی ٹرینی ڈاکٹرز ہیں۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔