سابق وزیراعظم نے بطور ملزم اپنابیان ریکارڈ کروادیا


اسلام آباد( 24نیوز العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے 342 کا بیان قلم بند کروادیا، ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لا لگایا، مارشل لا کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے 342 کا بیان ریکارڈ کروایا،  جج ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم سے پہلا سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ عوامی عہدیداررہے ہیں؟ انہوں کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہےکہ وزیراعظم،وزیراعلیٰ،وزیرخزانہ اوراپوزیشن لیڈررہ چکا ہوں،  نوازشریف نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہے، پرویز مشرف کے دور میں 1999 سے 2013 تک عوامی عہدہ نہیں رکھا  2000 سے 2007 تک جلا وطن کیا گیا ،  عدالت میں پیش کیے گئے ٹیکس ریٹرنز ، ویلتھ اسٹیٹمنٹس خود جمع کرائے ،  تمام اثاثے اور ذرائع آمد ن ظاہر کیے، حسین نواز کے جمع کرائے گئے ٹیکس سے متعلق جواب دینے کا مجاز نہیں ۔ 

جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ آپ شریف خاندان کے بااثر شخص تھے؟ جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے والد مرحوم میاں محمد شریف آخری وقت تک خاندان کے بااثرشخص تھے،  نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ میاں صاحب نشست پر بیٹھ جائیں ہم جواب تحریر کرا دیتے ہیں جس پر جج ارشد ملک کا کہنا تھا  کہ اگر جواب یو ایس بی میں ہیں تو جمع کرادیں، وکیل نے جواب دیا کہ یو ایس بی میں عدالتی سوالات کے جواب نہیں ہیں ہارڈ کاپی ہے، جس پر جج نے کہا کہ اپنے جواب کی کاپی مجھے دیں میں پڑھ لیتا ہوں۔

علاوہ ازیں نوازشریف کے وکلا نےسوالنامے میں شامل کچھ سوالات پراعتراض بھی اٹھا ئے، وکلا کا کہنا تھا کہ کچھ سوالات گنجلک اورافواہوں پرمبنی ہیں جس طرح کی ٹرمزسوالات میں استعمال ہوئی ہیں وہ عام انسان کیلیےسمجھناآسان نہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر واثق ملک کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سوالات سمجھ آرہے ہیں،سابق وزیراعظم نے 50 سوالات میں سے 45 کے تحریری جواب عدالت میں جمع کرائے، ان کا کہنا تھا کہ وقت دیاجائے 5 کےجوابات خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوں گا،کچھ سوالات پیچیدہ ہیں ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن میں صرف 3 دن باقی ہیں،  سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف العزیز یہ اور فلیگ شپ ریفرنس نمٹانے کے لئےاحتساب عدالت کو سترہ نومبر تک کی مہلت دی تھی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد کوئی توسیع نہیں دی جائے گی سترہ نومبر تک کیسوں کا فیصلہ نہ ہوا تو عدالت اتوار کو بھی لگے گی۔