پُروٹوکول کلچرختم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

پُروٹوکول کلچرختم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے


کوئٹہ(24نیوز)پروٹو کول کلچر ختم کرنے کے حکومتی دعوے،وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے،صدر مملکت کے کوئٹہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے اپنے آبائی گاﺅں پہنچنے سے پہلے تمام راستے،دکانیں بند کردی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ایک روزہ سرکاری دورہ پر کو ئٹہ پہنچ گئے ہیں، کو ئٹہ پہنچنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ارکان اسمبلی کے ہمراہ ان کا استقبال کیا، صدر مملکت صوبائی کابینہ اور اپوزیشن ارکان سے ملاقات کے علاوہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت  بھی کی۔

قبل ازیں ان کی آمد پر  پروٹوکول کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوئی، مختلف سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگنے سے شہریوں کی پریشانی اور بڑھ گئی، کئی ایمبو لینسز بھی رش میں پھنس گئیں،ذرائع کا کہنا تھا کہ صدر مملکت جب کوئٹہ پہنچے تو پروٹوکول کی 36 گاڑیاں ان کے ساتھ تھیں، زرغون روڈ کی طرف آنے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو آنے جانے کے لئے متبادل راستہ احتیار کرنا پڑا، ایمولینسز بھی اس بدترین ٹریفک جام کا شکار ہو ئیں، صدر مملکت جیسے ہی اپنی منزل و مقصود پر پہنچے تو راستے کھولے گئے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ڈی جی خان متوقع آمد پر ان کی رہائشگاہ کے قریب موجود تمام دکانیں پانچ روز کے لئے بند کروادی گئی ہیں،مونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دکانیں بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے، ان کی آمد پر شہریوں کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ وہ اپنے آبائی ضلع آرہے ہیں لیکن دکانیں بند کرنے والا کام ٹھیک نہیں ,ہماری روزی کا مسئلہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک دن کی بات ہوتی تو ہم کرلیتے مگر پانچ دن دکانیں بند کرنے کا حکم دیا گیا، ہمارا کیا قصور ہے؟

جبکہ مونسپل کارپوریشن کے عملہ کی جانب سے یہ  کہا گیا ہے کہ اگر ان لوگوں نے دکانیں بند نہ کیں تو ان کو سیل کر دیا جا ئے گا۔