محکمہ خوراک اربوں روپے کامقروض نکلا

محکمہ خوراک اربوں روپے کامقروض نکلا


پشاور(24نیوز)  گندم خریداری کامعاملہ محکمہ خوراک خیبرپختونخوا ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کا اربوں روپے کامقروض ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کی غفلت سے4 ارب روپے کی گندم پرسود 13 ارب روپے سے تجاوز کرگیا، وزارت تجارت نے صوبائی حکومت کو مراسلہ ارسال کردیامراسلہ میں کہاگیاہےکہ محکمہ خوراک بقایاجات کی ادائیگی کرے۔خیبرپختونخوا حکومت کو ایم ایم اے دور میں خریدی گئی گندم پر قیمت سے زائد سود ادا کرناپڑےگا،وزارت تجارت نے صوبائی حکومت کو مراسلہ ارسال کردیاجس میں  کہا گیا کہ محکمہ خوراک بقایاجات کی ادائیگی کرے۔

خیبر حکومت نے گندم کی خریداری 2004-05،2007-08 اور2008-09 میں کی تھی، تین سالوں میں 4 ارب 29 کروڑ روپے کے گندم خریدی گئی تھی ، 30 جون 2018 ءکوخریدی گئی 29 کروڑ33 لاکھ روپے کی گندم پر سود ایک ارب 23 کروڑ ہوگیا، 2007-08 میں خریدی گئی 83 کروڑ روپے کی گندم پرسود3 ارب 11 کروڑ سے تجاوز کرگیا، اسی طرح 2008-09 میں خریدی گئی 3 ارب 16 کروڑ کی گندم پر سو 8 ارب 83 کروڑ روپے تک جاپہنچاہے۔

مراسلہ میں مزید کہا گیا کہ تین سالوں میں 4 ارب 29 کروڑ کے گندم خریدی گئی،سود 13 ارب 21 کروڑ روپے ادا کرنا ہوگا، خیبرپختونخوا حکومت کو 4 ارب 29 کروڑ روپے کی گندم 17 ارب 51 کروڑ روپے میں پڑ گئی،گندم خریداری میں شرح سود کی مد میں سرکاری خزانے کو 13 ارب 21 کروڑ کا ٹیکہ لگایا گیا، مراسلے میں حکومت کو انتباہ کیا گیا کہ30 جون 2018 ءتک ادائیگی نہ کرنے پر سود کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا۔

ٹریڈ کارپوریشن کے مراسلہ میں مزید بیان کیا گیا کہ 2017 ءسے 30 جون 2018 تک خیبرپختونخوا حکومت کو رقم ادائیگی کے لئے 6 باریاددہانی کرائی گئی، ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان نے بینک کے ذریعے خیبرپختونخواحکومت کو گندم فراہم کی تھی، بینک ہر سال بقایاجات پر مارک وصول کرتاہے ۔