حکومت کا فوجداری مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ

حکومت کا فوجداری مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کا فیصلہ


اسلام اباد( 24نیوز )وفاقی حکومت نے فوجداری مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کا عندیہ دیدیا، جاری آرڈیننس کے تحت دوسرے ممالک سے مفرور ملزمان کو واپس لاکر سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے فوجداری کیسز میں سزائے موت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا دوسرے ممالک میں مفرور ملزمان کو پاکستان واپس لاکر سزائے موت نہیں دی جا سکے گی، وفاقی حکومت نے تعزیرات پاکستان ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا، قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اب قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اس کا جائزہ لے گی۔

پاکستان لائے گئے ملزم کے خلاف کوئی بھی شہادت عدالت میں استعمال ہوئی ہو توسزائے موت کے علاوہ کوئی بھی سزا دے سکے گی۔

وزارت داخلہ کاکہناتھا کہ کچھ ممالک سنگین جرائم میں ملوث افراد کو سزائے موت دیے جانے کے خوف سے حوالے نہیں کرتے، سزائے موت کے خاتمے پر بحث جاری ہے، انسانی حقوق کے ادارے بھی اس کی پر زور حمایت کر رہے ہیں۔

آرڈینینس کے متن میں بیان کیا گیا کہ حدود کے مقدمات میں سزائے موت ختم نہیں کی جا سکتی، تعزیر کے مقدمات میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔