سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر دو بار فائرنگ


لاہور(24 نیوز) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعات، لاہور میں جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر رات کو اور صبح فائرنگ کی گئی۔  رہائشگاہ پر فائرنگ کی تحقیقات کا آغازکردیا گیا۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ رات اور دن کے اوقات میں کی گئی۔ سانحہ کے بعد اعلامیہ سپریم کورٹ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پہنچ گئے۔

دوسری جانب اعلامیہ سپریم جوڈیشل چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس واقعے کی طرح ود نگرانی کر رہے ہیں۔ شواہد اکھٹے کرنے کیلئے علاقہ میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

علاوہ ازیں فرانزک ایجنسی کے حکام نے بھی شواہد اکٹھے کر لیے۔ فائرنگ کرنے کے اوقات کی جیو فینسنگ کرائی جائے گی۔ سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا :

دوسری جانب سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید الفاظ میں واقعہ کی مذمت کی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی رہنماوَں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کی اعلی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ اور واقعہ کے ملزمان کو گرفتار کرکے بے نقاب کیا جائے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جسٹس اعجاز الحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الحسن کی لاہور میں واقع رہائشگاہ پر فائرنگ کی آزاد تحقیقات کرائی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ججز کو دھمکانہ ناقابل معافی عمل ہے۔ واقعہ میں بلاواسطہ یا بلواسطہ ملوث ملزمان سخت سزا سے بچنے نہ پائیں۔ تمام ججز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

 بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہید بھٹو کا عدالتی قتل کیئے جانے کے باوجود پی پی پی عدالتوں کا احترام کرتی ہے۔ اتنی بڑی ناانصافی کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے عدلیہ پر ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا۔

پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر بخاری نے اپنے بیان میں کہا

 واقعے پر پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر بخاری نے مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصف کے رہائش گاہ غیر محفوظ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ فوری طور پر جوڈیشنل کمیشن قائم کیا جائے مجرموں کا سراغ لگایا جائے اور سہولت کاروں کو ڈھوںڈ نکال کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی جانب سے جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں ججوں کو دھمکانے کیلئے سیسلین مافیا جیسے حربوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم پوری قوت سے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔، عدلیہ سے یکجہتی کیلئے 29 اپریل کو مینار پاکستان تلے عظیم الشان جلسہ منعقد کریں گے۔

ادھر سینٹرسراج الحق کا واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر حملہ قابل مذمت ہے۔ الیکٹرک اوردیگر ادارے اندھے، گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ۔ پاکستان بار کونسل نے کل ملک بھر میں ہڑتال اعلان کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کردیا.  انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزما ن کو جلد از جلد گرفتار کرکے منظر عام پر لایا جائے ۔ اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ 

دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتےہوئے فورا کارروائی کا حکم دیا ہے۔ 

یہ بھی دیکھیں: