تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب، ن لیگ کا احتجاج

10:24 AM, 15 Aug, 2018

وقار نیازی
Read more!

اسلام آباد(24نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے، اسد قیصر نے 176 جبکہ خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کیے۔اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کا حلف بھی اٹھا لیا۔ حلف براداری کے دوران اپوزیشن نے  احتجاج شروع کردیا جس کے بعد اسد قیصر نے اجلاس 15 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کیلئے مجموعی طور پر چار امیدوار میدان میں ہیں.اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے  پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر  اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ امیدوار تھے۔ اجلاس میں 330 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 322 ووٹ منظور جبکہ 8 مسترد ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اسد قیصر نے 176 جبکہ متحدہ اپوزیشن کے منتخب امیدوار نے 146 ووٹ حاصل کیے۔

مسلم لیگ ن کا احتجاج: 

مسلم لیگ ن نے اسپیکر قومی اسمبلی کی حلف برداری کے دوران احتجاج کیا اور شورشرابہ شروع کردیا، لیگی ارکان نے ’’جعلی مینڈیٹ نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے، احتجاج کے دوران راناتنویر اور نورعالم خان کے درمیان جھڑپ ہو گئی، عامر لیاقت اور راناثنااللہ نے بیچ بچاؤ کرایا۔ احتجاج کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان لاتعلق رہے اور خاموش بیٹھے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اسپیکرز، ڈپٹی اسپیکرز کا فیصلہ ہوگیا

شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں خطاب:

شاہ محمود قریشی  نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  پیپلز پارٹی نے فراخ دلی سے نتائج قبول کیے ہیں،پیپلز پارٹی کا رویہ جمہوری رویہ ہے ، حکومتی اتحاد کا حصہ بننے والی تمام پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی176ووٹ ملیں گے176ووٹ ہی ملے ہیں۔

ایاز صادق کا  قومی اسمبلی میں خطاب:

ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں اظہار خیا ل کیا  اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی پہلی جمہوری حکومت تھی جو ہمیں جمہوری طریقے سے منتقل ہوئی۔ میں ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کروں گا جس سے کسی کی تذلیل ہو۔ انھوں نے کہا کہ مجھے جعلی اسپیکر کے نعرے بھی سننے کو ملے تھے،سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ایک دوسرے کی عزت لازمی ہے، میں آپ کو جناب اسپیکر ہی بلواؤں گا،ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے شرمندگی ہو ۔

انھوں نےمزاحیہ لہجہ میں  کہا کہ میری خواہش تھی کہ شیریں مزاریں اسپیکر بنتیں۔انھوں نے کہا کہ  شیریں مزاری حکومت میں نہیں اپوزیشن بینچ پر بہتر کردار ادا کر سکتی ہیں جبکہ وہ حکومت میں رہ ہی نہیں سکتیں اور اپوزیشن ہی کریں گی کیونکہ وہ ایک ایسا ’ان گائیڈڈ“ میزائل ہے جو گھوم پھر کر اپنے اوپر گرے گی، جس پر اسمبلی میں موجود تمام اراکین ہنسنے لگ گئے۔

خورشید شاہ کا قومی اسمبلی میں خطاب:

سید خورشید شاہ نے کہا کہ  ہمارے قائدین نے اس پارلیمنٹ کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں،جمہوریت محترمہ بے نظیر کی شہادت کی وجہ سے قائم ہے،ہمیں ان کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ملک کا بالادست ادارہ ہے ہم سب اس کا احترام کرتے ہیں، ہماری کوشش ہو گی کہ پارلیمنٹ کے اندرعوام کے لیے بہتر فیصلے ہوں۔

اس وقت اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، اجلاس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنما خطاب کر رہے ہیں۔

اسد قیصر کون؟ 

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے۔  وہ 15 نومبر 1969 کو صوابی میں سردار بہادر کے گھر میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سیکنڈری سکول مرغز سے حاصل کی۔پشاور یونیورسٹی سے آرٹس میں گریجویشن کی ڈگڑی حاصل کی۔ انہوں سے سیاست کا آغاز جماعت اسلامی سے کیا اور 1996 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اسی سال وہ ضلعی صدر نامزد ہوئے۔

2008 میں وہ خیبرپختونخوا کے پارٹی صدر منتخب ہوئے اور 2013 تک عہدے پر فائز رہے۔ 2013 میں تحریک انصاف کی سیٹ پر الیکشن لڑ کر اسپیکر صوبائی اسمبلی بننے اور 2018 الیکشن میں این اے 18 صوابی سے قومی اسمبلی کی سیٹ پر کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کے اسپکر منتخب ہوئے۔ وہ قومی اسمبلی کی سیٹ کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلی کی سیٹ پی کے 44 سے بھی کامیابی حاصل کی تھی۔

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے سابق سپیکرز: 

اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہونے کے بعد خیبر پختون خوا کو تقریبا 28 سال بعد یہ اعزاز ملا۔ وہ قومی اسمبلی کے 20ویں اسپیکر منتخب ہوئے۔اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ کے گوھر ایوب 4 نومبر 1990 سے 17 اکتوبر 1993 تک سپیکر قومی اسمبلی رہے۔پچھلی حکومت میں مرتضی جاوید عباسی 17 دنوں کیلئے قائم مقام سپیکر رہے ۔

ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب :

دوسرے مرحلے میں    ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کیا جائے گا۔  ڈپٹی اسپیکر  کیلئے پی ٹی آئی کی جانب سے نامزد قاسم سوری اور اپوزیشن کے سعد محمود امیدوار ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ نئے منتخب اسپیکر کی زیر صدارت  دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے ہوگا۔ انتخاب خفیہ شماری سے ہوگا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس شروع ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے ممبران نے اپنے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوا۔ ایک بار گنتی ہوئی تو پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے دوبارہ گنتی کی درخواست کی۔ گنتی کے بعد سردار ایاز صادق نے نئے اسپیکر  کا اعلان کیا  اور  نئے منتخب شدہ اسپیکر اسد قیصر نے کرسی سنبھال لی۔ اب نئے منتخب شدہ اسپیکر اسد قیصر  دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کریں گے۔

مزیدخبریں